ڈی وی ڈی: طالبان، لقاعدہ کانیاذریعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل سے خوست کا فاصلہ اگرچہ صرف دو سو کلومیٹر ہے لیکن اس دشوار گزار صوبے پر افغان دارالحکومت کی حکمرانی برائے نام ہی ہے۔ خوست پاکستان سے لگنے والی سرحد پر واقع ہے اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ مسلح جنگجو سرحد کے اس پار سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن وہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ان جنگجوؤں کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ صوبے کی مرکزی شاہراہوں اور سڑکوں پر امریکی فوجی اور نئی نئی تربیت یافتہ افغان نیشنل آرمی گشت کرتی رہتی ہے لیکن پہاڑوں، وادیوں اور سرحد سے لگنے والے ہر دیہات کی نگرانی ان کے بس میں بھی نہیں ہے۔ بڑے شہروں سے باہر افغان حکام ان جنگجوؤں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں اور جان جانے کے خوف سے چھپے رہتے ہیں۔ ایک افغان منتظم نے اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر بتایا کہ دور دراز علاقوں میں لوگ یا تو طالبان اور القاعدہ کے حامی ہیں یا اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ ان کے خلاف کچھ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ خوست کے حکام اس کی تمام ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے ہیں جس نے ملحق سرحد پر طالبان یا القاعدہ کے تربیتی کیمپ قائم کرنے سے چشم پوشی کی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں کی ڈی وی ڈی بنا کر افغانستان، پاکستان اور پاکستان سے باہر تقسیم کی جاتی ہیں اور ان کا مقصد مخالفوں کو ڈرانا اور ان کیمپوں کے لیے مالی امداد اور نئے رضا کار حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر ویڈیوز کے ساتھ تفصیلات عربی میں بتائی جاتی ہیں یا ان کی پس منظر میں جـوش دلانے والی مذہبی موسیقی ہوتی ہے۔
ان ویڈیوز کی تیاری میں اس بات پر خاص توجہ دی جاتی ہے کہ افغان صورتِ حال اور عراق میں مماثلت دکھائی جائے۔ ان حکام کے مطابق عربی زبان اس لیے استعمال کی جاتی ہے کہ ان تنظیموں کو ساری مالی مدد عربوں سے ملتی ہے۔ حکام کے مطابق حال ہی میں ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں ایک افغان کا یہ اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا کہ وہ امریکیوں کیلیے جاسوسی کرتا تھا۔ اس کے بعد عراق میں القاعدہ کے رہنما مصعب الزرقاوی کی تصویر کے سامنے اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ ایک اور ویڈیو میں کئی لوگوں کو مجرم قرار دے کر طالبان کے انداز میں قتل کیا گیا اور اس کے بعد ان کے سربریدہ جسموں کو ایک کار کے پیچھے باندھ کر میران شاہ کی سڑکوں پر گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا۔ تیسری ویڈیو میں دس کے قریب نوجوانوں کو جو بظاہر عرب یا ازبک دکھائی دیتے تھے، تربیت لیتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس کے بعد اس میں ایک چوکی دکھائی گئی جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے افغان نیشنل آرمی سے خالی کرایا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کے اس پار سے آنے والے جنگجو جدید تر اسلحے سے مسلح ہوتے ہیں اور ان کے پاس پیسے بھی ہوتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’پاکستانیوں کو طالبان نے بھیجا تھا‘ 20 June, 2005 | آس پاس افغانستان میں بارہ ہلاک21 April, 2005 | آس پاس افغانستان: پانچ ہلاک23 March, 2005 | آس پاس امریکی ’ہیرو‘ افغانستان میں ہلاک24 April, 2004 | آس پاس افغانستان میں تیرہ ہلاک15 April, 2004 | آس پاس ایک امریکی فوجی، دو افغان ہلاک14 February, 2004 | آس پاس دو افغان، تین طالبان ہلاک17 January, 2004 | آس پاس افغانستان میں نیا امریکی آپریشن09 December, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||