افغانستان میں تیرہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے شمال اور شمال مشرقی صوبوں میں دو مختلف واقعات میں افغان فوجیوں سمیت تیرہ افراد ہلاک اور کئی دوسرے زخمی ہو گئے ہیں- پہلا واقعہ شمالی صوبہ قندہار میں پیش آیا جہاں پر گزشتہ روز دو مخالف گرپوں کے مابین فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس انچارج سمیت دس افراد قتل کر دیئے گئے۔ زابل پولیس کے سربراہ کرنل قدرت اللہ نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزانہ ڈسٹرکٹ پولیس کے سربراہ یارمحمد کو جن کا علاقے کے ایک مخالف فریق سے تنازعہ چلا آرہا تھا ایک حملے میں اپنے نو دوسرے ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا گیا۔ کرنل ایوب نے اس بات کی سختی سے تردید کی پولیس سربراہ طالبان ملیشیا کے حملے میں مارے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یارمحمد اور انکے ساتھیوں نے دوسال قبل ہتھیاروں کے ایک تنازعہ میں مخالف فریق حاجی بہاؤالدین کے چار افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کا انتقام لینے کے لیے گزشتہ روز شاہ ولی کوٹ کے علاقہ میں دشمنوں نے یارمحمد کی گاڑی پر حملہ کیا جس سے وہ نو ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے۔ فائرنگ میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا جبکہ ایک زخمی ہوا۔ دوسرا واقعہ شمال مشرقی صوبہ خوست میں پیش آیا جہاں پر نامعلوم افراد نے افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر فائرنگ کرکے تین فوجیوں کو ہلاک کردیا۔ خوست کےایک سرکاری اہل کار نے بتایا کہ حملہ شہر کے جنوب مشرق میں شینکی کے مقام پر گزشتہ رات پیش آیا۔ حکام نے الزام لگایا ہے کہ حملے میں طالبان اسلامی ملیشیا ملوث ہے جو چند مہینوں سے اس علاقہ میں اس قسم کے حملوں کررہی ہے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے تین لاشوں کو ایک امریکی گاڑی میں ڈالتے ہوئے خود دیکھا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملے میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیاگیا اور حملہ آور کئی منٹ تک چیک پوسٹ پر فائرنگ کرتے رہے۔ واقعہ کے فوراً بعد افغان فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر گھر گھر تلاشی شروع کردی اور کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||