سریبرنتسا: پندرہ سال قید کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سریبرنتسا میں مسلمانوں کے قتل عام کے دس سال بعد کروشیا کی ایک عدالت نے ایک سربیائی شخص کو پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے جس کی شناخت قتل عام کے دوران بنائی گئی ایک وڈیو فلم سے کی گئی۔ اس شخص کا نام سلوبودان ڈیوِڈوِچ ہے اور اسے انیس سو پچانوے میں مشرقی بوسنیا میں سریبرنتسا کے پاس چھ مسلمانوں کے قتل عام میں شرکت کا مرتکب پایا گیا ہے۔ اس کی گرفتاری سربیائی ٹیلی ویژن پر چھ ماہ قبل اس وڈیو کے نشر ہونے کی بعد پیش آئی ہے جس میں دیکھنے سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اسکورپیئن یعنی بچھو نامی تنظیم کے افراد مسلمان مردوں کے ایک گروپ کو ٹرک سے اتارنے کےبعد انہیں گولیاں مارکر ہلاک کررہے ہیں۔ اس واقعے میں ملوث ہونے والے دیگر پانچ افراد پر بلغراد میں عدالتی کارروائی کی جارہی ہے۔ سلوبودان ڈیوِڈوِچ نے کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ سربیائی ٹیلی ویژن پر نشر کیا جانے والا وڈیو گزشتہ جون ہیگ میں جرائم کی عالمی عدالت میں سابق یوگوسلاؤ صدر سلوبودان ملوسیوِچ کی سماعت کے دوران دکھایا گیا تھا۔ سربیا میں جب اسے ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا تو عوام میں بڑے پیمانے پر غصے کی لہر دوڑ گئی۔ یہ وڈیو جولائی انیس سو پچانوے میں مشرقی بوسنیا کے گاؤں ٹرنوو میں بنایا گیا جہاں چھ مسلمان نوجوانوں کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔ قتل کیے جانے والے ان مسلمانوں کی عمر پندرہ سے تیس سال کے درمیان تھی۔ سربیا کے وزیراعظم ووجِسلاؤ کوستونیکا نے اسے بےشرم، ظالمانہ اور سفاکانہ جرم قرار دیا تھا۔ وڈیو نشر ہونے کے بعد کئی لوگوں کو شمالی سربیا سےگرفتار کیا گیا۔ سربیا کے عوام میں اس قتل عام کے خلاف پائے جانے والے جذبات کی وجہ سے کئی مبصرین کو اس بات کی امید برآئی تھی کہ سربیا ان جرائم کا سامنا کرنے کو تیار ہورہا ہے جو اس کے نام پر کیے گئے۔ تاہم قوم پرستوں گروہوں کی جانب سے ان جذبات کی مخالفت میں بھی دیر نہیں لگی۔ سربیا کی پارلیمان میں سریبرنتسا قتل عام کی مذمت کے لیے حقوق انسانی کے کارکنوں کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک قرارداد منظور ہونے میں ناکام ہوگئی اور حکمراں جماعت نے تمام جنگی جرائم کی مذمت کے لیے ایک عام سی تجویز پیش کی۔ لیکن سربیا میں ا بھی ایسے لوگوں کو مخالفت کا سامنا ہے جو سریبرنتسا قتل عام کی مذمت کرنا چاہتے ہیں، انہیں گالیاں دی جاتی ہیں اور جان کی دھمکیاں ملتی ہیں۔ انیس سو پچانوے میں ہونے والے سریبرنتسا قتل عام میں لگ بھگ آٹھ ہزار مسلمان ہلاک کردیے گئے تھے۔ | اسی بارے میں سربرنیتزا: سرب کمانڈر پر مقدمہ20 December, 2005 | آس پاس مسلمانوں کے قتلِ عام کا اعتراف 12 June, 2004 | آس پاس سرب فوجی کمانڈر کو سزا02 December, 2003 | آس پاس بوسنیاقتل عام برسی:ہزاروں شریک11 July, 2004 | آس پاس بوسنیا: موسطار پل کا افتتاح23 July, 2004 | آس پاس جنگی مجرم:امریکہ کا بوسنیا کوانتباہ01 August, 2004 | آس پاس مقدونیہ کا وزیرگرفتار31 August, 2004 | آس پاس ہیگ: مسلمان جنرل کو پکڑ لیا گیا01 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||