BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 December, 2005, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سربرنیتزا: سرب کمانڈر پر مقدمہ
سربرنیتزا: سرب کمانڈر پر مقدمہ
اس ویڈیو میں چھ بوسنیائی مسلمان قیدیوں کو قتل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
سرب پولیس کے سکارپینز نامی ایک یونٹ کے سابق کمانڈر نے، چھ بوسنیائی مسلمانوں کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

سلوبدان میڈک کے مطابق نہ تو وہ انیس سو پچانوے میں سربرنیتزا میں ہونے والے قتلِ عام کے وقت موقع واردات پر موجود تھے اور نہ ہی انہوں نے ایسا کوئی حکم دیا تھا۔

سلوبدان میڈک کے علاوہ چار دیگر افراد پر سربرنیتزا میں ہونے والے قتل عام کے سلسلے میں بلغراد میں ایک سرب عدالت میں مقدمہ جاری ہے۔ ان پانچوں افراد پر انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات ہیں۔ انہیں جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔

جرم ثابت ہوجانے کی صورت میں ملزمان کو چالیس سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ لیکن سربیا میں سزائے موت نہیں دی جاتی۔

سرب پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمے کے آغاز پر استغاثہ نے کہا کہ یہ سری برینتزا کے قتل عام کا ویڈیو کی شکل میں پہلا ثبوت ہے۔

یہ مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب ہیگ میں سلوبدان ملاسووچ کے مقدمے کے دوران بیس منٹ کا ایک ایسا ویڈیو سامنے آیا جس میں سربرینتزا سے تعلق رکھنے والے چھ بوسنیائی مسلمان قیدیوں کو قتل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ان لوگوں کو ایک صف میں کھڑا گیا اور سرب پولیس کی ایک یونٹ نے انہیں پیچھے سے گولی مار دی ۔ مرنے والوں میں سے ایک شخص کی عمر صرف سولہ برس تھی۔

سربرنیتزا میں ہونے والے اس قتل عام میں تقریباً آٹھ ہزار مسلمان مردوں اور لڑکوں کو سرب افواج نے بوسنیا پر قبضے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔ یورپ میں انیس سو پینتالیس کے بعد یہ انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی تھی۔

استغاثہ کا کہنا ہےکہ یہ ویڈیو فلم انیس سو پچانوے میں اسی پولیس دستے نےبنائی تھی جس نے قتل کا یہ واقعہ انجام دیا تھا۔ سربرینتزا کے قتل عام سے متعلق یہ پہلا مقدمہ ہے جس کی سماعت کسی سرب عدالت میں کی جارہی ہے۔

سابق بوسنیائی سرب لیڈر رادوان کرادچک، اور ان کے فوجی ہم منصب راتوک ملداچ پر نسل کشی کا الزام ہے اور دی ہیگ میں جنگی جرائم سے متعلق ٹرائبیونل میں ان پر مقدمہ چلانے کے لیے انہیں گرفتار کرنے کی بے انتہا کوششیں کی جا رہی ہیں۔ لیکن سرب قوم پرست انہیں اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
بوسنیائی مسلمانوں کی یادگار
20 September, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد