ہم شرمندہ ہیں:عالمی رہنما | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بوسنیا کے شہر سریبرینتزا میں سرب فوج کے ہاتھوں ہزاروں مسلمانوں کے قتلِ عام کی دسویں برسی منائی جا رہی ہے اور اس موقع پر عالمی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس وقت اس قتل عام کو روکنے کے لئے کچھ نہ کرسکے۔ انیس سو پچانوے میں سرب فوج نے آٹھ ہزار بوسنیائی مرد اور بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ میں سب سے گھناؤنا قتلِ عام تھا۔ پیر کے روز اس واقعے کے دس سال پورے ہونےکے موقع پر ایک تقریب میں برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا کہ دنیا اس قتل عام کو روکنے میں ناکامی پر شرمندہ ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے انچارج خاوئیے سولانا نے کہا کہ یہ پوری دنیا کی ایک مشترکہ ناکامی تھی۔ پوٹوکاری کے قبرستان میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ہونے والی تقریب میں برطانوی، فرانسیسی اور ڈچ حکام حصہ لے رہے ہیں۔ اسی دوران نئی شناخت ہونے والی 160 لاشوں کی باقیات کو بھی دفنایا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے اس جگہ پر دو بم ملنے کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ بعد میں ان دو بموں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ علاقے میں پندرہ سو سے زائد پولیس والے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
سربیا کے صدر بورس تاجک بھی ایک وفد کی صورت میں اس تقریب میں حصہ لیں گے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سرب حکام اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کی شمولیت پر سخت گیر سرب بہت اعتراض کر رہے ہیں۔ سربیا میں بہت سے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ سریبرینتزا کا قتلِ عام کبھی ہوا ہی نہیں۔ لیکن گزشتہ ماہ نہتے مسلمان شہریوں کے قتلِ عام سے متعلق نئی ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے سے سربوں میں احساس ندامت جاگا ہے۔ صدر تاجک نے کہا ہے کہ وہ ’بے گناہوں کے لیے سر جھکائیں گے‘۔ بوسنیائی سرب لیڈر رادوان کراجک اور ان کی آرمی کے کمانڈر رادکو ملاجک کو اس قتلِ عام کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ دونوں ہی ابھی تک مفرور ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||