جنگی مجرم:امریکہ کا بوسنیا کوانتباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِخارجہ کولن پاول نے بوسنیا کو متنبہ کیا ہے کہ جنگی قیدیوں کو حوالے کرنے میں مسلسل ناکامی اس کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ بوسنیائی دارالحکومت سرائیوو کے چار گھنٹے کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ سابق سرب بوسنیائی لیڈر رادون کرازچ کی گرفتاری میں ناکامی، نیٹو اور یورپی یونین میں بوسنیا کی رکنیت کے راستے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مشتبہ افراد کو برسوں پہلے گرفتار کر کے ہیگ کی عالمی عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ اس مختصر دورے کے دوران امریکی وزیرِخارجہ نے بوسنیا کی سہ رکنی صدارت سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے عراق میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ماہرین بھیجنے کی پیشکش پر بوسنیا کا شکریہ بھی ادا کیا۔ امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ بوسنیا کو کرازچ اور دوسرے مطلوب جنگی مجرموں کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہیئں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت تک خوشی حاصل نہیں ہو گی جب تک وہ کرازچ کو ہیگ کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہوا نہیں دیکھ لیتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||