بوسنیا: موسطار پل کا افتتاح | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق یوگوسلاویہ کا سب سے مشہور تاریخی پل جو دس سال پہلے بوسنیا میں ہونے والی جنگ میں تباہ ہو گیا تھا، آج دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ موسطار پل سہولویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ 1993 میں مسلمانوں اور کروشیائی باشندوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں اس پل کو اڑا دیا گیا تھا۔ پل کو نئے سرے سے بنانے کے لیے تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔ پل کی افتتاحی تقریب میں یورپی ممالک کے سربراہ موجود ہونگے۔ یہ پل دریا نرٹوا پر انہی طریقوں سے بنایا گیا ہے جو آج سے پانچ سو سال پہلے ترکی کے ماہرین تعمیر نےاستعمال کیے تھے۔
پل کو نئے سرے سے بنانے والوں میں امیر پاسک شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس پل کا مستقبل روشن ہے کیونکہ یہ کسی مذہب کے ساتھ بندھا ہوا نہیں ہے اور یہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے ایک سا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پل کی خوبصورتی کا راز اس کی سادگی ہے۔ موسطار پل کو بوسنیا کے کثیرالنسلی معاشرے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ نومبر 1993 میں کروشیائی افواج کے ہاتھوں اس کی تباہی سے بوسنیا کے مسلمانوں، سربوں اور کروشیائیوں کے درمیان اختلافات واضح ہو گئے تھے۔ بہت سے لوگوں نے پل کی تعمیر نو کا خیر مقدم کیا ہے۔ مگر بوسنیا کی نسلی برادریوں کے درمیان کی خلیج اب تک پوری طرح بھری نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||