مقدونیہ کا وزیرگرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مبینہ طور پر چھ پاکستانیوں کے قتل کا حکم دینے پر مقدونیہ کے سابق وزیرِ داخلہ لوجوبو بوسکوویسکی کو کروئشیا میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سن دو ہزار دو میں چھ پاکستانیوں سمیت سات غیر قانونی تارکینِ وطن کے قتل کا حکم دیا تھا۔ استغاثے کے مطابق بوسکوویسکی نے ایک بھارتی شہری اور چھ پاکستانیوں شہریوں کے قتل کی سازش کی اور اس واقعے کو یہ رنگ دیا کہ مرنے والے اسلامی شدت پسند تھے جو دہشت گردی کے خلاف ایک کارروائی میں مارے گئے۔ استغاثے کا کہنا ہے کہ یہ سازش اس لیے کی گئی تاکہ امریکی شہروں نیویارک اور واشنگٹن میں خود کش حملوں کے بعد عالمی دہشت گردی کے خلاف امریکی کارروائی میں شریک ہوکر امریکہ کو خوش کیا جائے۔ اس سال کے شروع میں بوسکوویسکی نے جن کے پاس کروئشیا کی شہریت بھی ہے، ٹیلی وژن پر تمام الزامات سے انکار کیا تھا۔ مقدونیہ میں پولیس کی ایک ترجمان نے بعد میں کہا تھا کہ چھ پاکستانی اور ایک بھارتی شہری کو جنہیں مغربی یورپ میں نوکریاں دینے کے وعدے کرکے مقدونیہ لایا گیا تھا، امریکی خوشنودی کے لیے سرکاری طور پر قتل کروا دیئے گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||