مقدونیہ میں سات پاکستانیوں کی ہلاکت کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقدونیائی حکام نے دو ہزار دو میں سات پاکستانیوں کو غلط طور پر شدت پسند قرار دے کر ہلاک کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پاکستانی غیر قانونی تارکینِ وطن تھے جنہیں شدت پسند قرار دے کر انتہائی بہیمانہ طریقے سے گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اب تک سکیورٹی سروس کے چار افسروں پر ان پاکستانیوں کے قتل کی فردِ جرم عائد کی گئی ہے جب کہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ سابق وزیر داخلہ باسکووسکی کو بھی اس الزام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تھا تو اس وقت مقدونیہ کی وزارتِ داخلہ نے کہا تھا کہ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب مقتولین نے دارالحکومت سکوپئے میں حملہ کر کے پولیس والوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ در حقیقت ان کے قتل کا ڈراما رچایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||