ہیگ: مسلمان جنرل کو پکڑ لیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بوسنیائی فوج کے ایک سابق کمانڈر نے خود کو ہیگ میں واقعہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ چھپن برس کے راسم دیلِک کو ان جنگی جرائم کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان جرائم کا ارتکاب انیس سو نوے کی دہائی میں بوسنیا کی جنگ کے دوران غیرملکی اسلامی جنگجوؤں نے کیا تھا۔ ان مبینہ جرائم میں بوسنیائی سربوں اور کروایشیائی باشندوں کے قتل اور ان پر تشدد کے علاوہ قیدی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرائم شامل ہیں۔ انیس سو بانوے سے انیس سو پچانوے تک ہونے والی بوسنیائی جنگ کے دوران سینکڑوں غیرملکی اسلامی جنگجو یا ’جہادی‘ بوسنیا کی فوج میں شامل ہوئے تھے اور جنگ کے بعد بہت سے اسی ملک میں آباد ہو گئے۔ جنرل دیلِک نے جنگی جرائم کے ارتکاب کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے اور غیرملکی جنگجوؤں کے درمیان تین سطح پر مختلف کمان تھی۔ انیس سو بانوے میں جنگ کے آغاز کے بعد ہی مجاہدین نے بوسنیا آنا شروع کر دیا تھا۔ جنرل دیلِک کو دو مقدمات کے سلسلے میں پیش ہونے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ ٭انیس سو ترانوے میں وسطی بوسنیا کے ترافنک نامی علاقے میں چوبیس کروایشیائی نژاد بوسنیائی قیدیوں کی ہلاکت۔ ٭بوسنیائی سرب قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی جن میں سے چودہ کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ انیس سو پچانوے میں کمینیکا کیمپ میں ہلاک ہلاک ہو گئے تھے۔ الزامات میں تین سرب بوسنیائی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی بھی شامل ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ جنرل دیلِک کے ’علم میں تھا‘ کہ ان کے ماتحتوں نے یہ جرائم کیے ہیں اور دیلِ ان واقعات کو روکنے میں ناکام رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||