’کرغستان کے اڈے استعمال کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو نے اعلان کیا ہے کہ ازبکستان کا فوجی اڈہ خالے کرنے کے بعد وہ کرغستان کے اڈے کو استعمال میں لائیں گے۔ نیٹو کے ایک اعلی اہلکار نے کہا ہے کہ ازبکستان کا فوجی اڈہ خالے کرنے کے بعد وہ کرغستان کے اڈے کو زیادہ استعمال میں لائیں گے۔ ازبکستان نے امریکہ کو کہا رکھا ہے کہ وہ کارشی خان آباد کا فوجی اڈہ خالی کر دے جو اس کو افغانستان پر حملے کے وقت دیا تھا۔ نیٹو کے اعلی اہلکار نے کہا کہ کرغستان کا یہ فوجی اڈہ پہلے بھی اس کے استعمال میں تھا لیکن اب وہ اس کو زیادہ استعمال میں لائیں گے۔ حالیہ شنگھائی کانفرنس میں، جس کے روس اور چین ممبر ہیں، امریکہ سے کہا گیا تھا کہ وہ علاقے سے اپنے فوجی اڈے ختم کر دے۔ شنگھائی کانفرنس کے کچھ ماہ بعد ازبکستان کی حکومت نے امریکہ کو چھ مہینے کے اندر کارشی خان آباد کا فوجی اڈا خالی کرنے کا نوٹس دیا تھا۔ نیٹو نے کرغستان حکومت کی پالیسوں کی تعریف کی اور کہا اور اس نے ازبکستان سے بھاگ کر آنے والے پناہ گزینوں کے مسئلے دانشمندی سے نپٹایا ہے۔ ادھر یورپی یونین نے ازبکستان کو ہتھیاروں کی فروخت روک دی ہے۔ یورپی یونین نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ازبکستان کے اعلیٰ عہدیداروں کو ویزے جاری نہیں کرے گی۔ لگسمبرگ میں ہونے والے اجلاس میں یورپی یونین کے وزراء نے حکومت مخالف مظاہروں کی تحقیق کرنے کی اجازت نہ دینے کے ازبکستان کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ازبکستان کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں میں دو سو لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ازبکستان کا کہنا ہے کہ اسلامی شدت پسند حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||