ازبکستان واقعات کی پہلی دستاویز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوکرین کے انٹر نامی ٹیلیوژن چینل نے ازبکستان میں ہلاکتوں اور چشم دید شاہدوں کے بیانات پر مبنی ایک فلم دکھائی ہے۔ یہ ازبکستان میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات کے بارے میں پہلی فلم ہے اور اس ویڈیو فلم کو یوکرین کے اس ٹی وی چینل کےدوصحافی ازبکستان سے یوکرین لائے۔ واضع رہے کہ گزشتہ ہفتے ازبکستان کے شہر آندی جان میں مظاہرین نے ایک جیل پر حملہ کر کے کئی قیدیوں کو رہا کرا لیا تھا جس کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج نےگولی چلا دی جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔ فلم میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں قطاروں میں سفید کپڑوں میں لپٹی ہوئی رکھی دکھائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اس فلم میں آندی جان کے شہریوں کے انٹرویو بھی ہیں جن میں انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ لوگوں کو مارا گیا۔ ان صحافیوں کا کہنا تھا کہ جب وہ شہر میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ شہر ویران پڑا ہے۔ انہیں کوئی شخص دکھائی نہیں دے رہا تھا تاہم شہر کے مرکزی حصہ سے آوازیں آ رہی تھیں۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو توقع نہیں تھی کہ کوئی کیمروں کے ساتھ وہاں پہنچ سکے گا۔ کیمرے کے ساتھ وہاں پہنچنے والے ہم پہلے لوگ تھے۔ لوگ ہماری طرف بھاگے اور ہماری منتیں کرنے لگے کہ شہر میں جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس کی فلم بنائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہر کی گلیوں میں بہت زیادہ خون دیکھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||