BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 May, 2005, 03:14 GMT 08:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ازبکستان: 500 افراد ہلاک
ازبکستان
سرکاری وکیل رشید قدیروف کا کہنا ہے کہ ’مرنے والے ایک سو انہتر افراد میں بتیس فوجی بھی تھے‘
مختلف ممالک کے سفارتکاروں اور صحافیوں نے ازبکستان کے شہر اندیجان کا دورہ کیا جہاں سے حالیہ دنوں میں ہونے والے پر تشدد واقعات کی متضاد اطلاعات آرہی ہیں۔

اس گروپ کو ازبک حکام پہلے سے طے شدہ جگہوں پر ایک بس کے ذریعے لے گئے۔

ازبکستان میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ اس گروپ کے ارکان کو کسی مقامی فرد سے ملنے نہیں دیا گیا اور نہ ہی اپنی مرضی سے کہیں جانے دیا گیا۔

ایک فوجی زریعہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کے روز اندیجان میں مظاہرین پر سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے پانچ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ قتل عام تھا اور دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ کیا ہوا تھا۔

تاہم ازبک حکام فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم بتارہے ہیں۔ ازبکستان میں سرکاری وکیل نے کہا ہے کہ جمعہ کو اندیجان میں بلوے کے دوران ایک سو انہتر افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے پہلے سرکاری طور پر مرنے والوں کی جو تعداد بتائی گئی تھی وہ اس سے بھی کم تھی۔

سرکاری وکیل رشید قدیروف نے کہا تھا کہ ’مرنے والوں میں بتیس سکیورٹی اہلکاراور تین عورتیں سمیت کل ایک سو انہتر افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ان عورتوں کودہشت گردوں نے ہلاک کیا ہے۔‘

ازبکستان کے صدر اسلام کریموف نے تاشقند میں ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ اندیجان میں لوگوں کاگروہ حکومت کا تختہ الٹ کراسلامی حکومت قائم کرنا چاہتا تھا۔

ملک کے مشرقی شہر اندیجان کو حکام نے بدستور محاصرے میں لیا ہوا ہے اور وہاں سے اب بھی اطلاعات بمشکل باہر آرہی ہیں۔

تاشقند میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق کئی ازبک شہریوں کا خیال ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں مرحلہ وار ورثاء کے حوالے کی جا رہی ہیں تاکہ ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد معلوم نہ ہو سکے۔

امریکی اور برطانوی حکومتوں نے اس تشدد کی مذمت کی ہے اور ازبکستان میں سیاسی اصلاحات اور سیاسی امور کی شفاف طریقے سے انجام دہی پر زور دیا ہے۔

ازبک صدر اسلام کریموف نے ان مطالبوں کو رد کردیا ہے کہ اندیجان کے واقعات کی تفتیش کے لیے بین الاقوامی مبصرین اور عالمی امدادی اداروں کو وہاں جانے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ازبکستان ایک خودمختار ملک ہے اور وہ اپنے معاملات خود ہی طے کرنے کا اہل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد