ازبکستان: ہلاک شدگان کی تدفین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ازبکستان کے شہر اندیجان میں چار روز پہلے تشدد کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تدفین جاری ہے۔ اگرچہ مظاہرین پر فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہو سکی لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ تشدد کے واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاشقند میں بی بی سی کی نامہ نگار مونیکا وِٹلاک کے مطابق کئی ازبک شہریوں کا خیال ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں مرحلہ وار ورثاء کے حوالے کی جا رہی ہیں تاکہ ہلاک ہونے کی صحیح تعداد معلوم نہ ہو سکے۔ امریکی اور برطانوی حکومتوں نے تشدد کی مذمت کی ہے اور ازبکستان میں سیاسی اصلاحات اور سیاسی امور کی شفاف طریقے سے انجام دہی پر زور دیا ہے۔ امید کی جارہی تھی ہے کہ تاشقند میں تعینات غیر ملکی سفارتکار منگل کے روز ان علاقوں کا دورہ کریں گے جہاں تصادم ہوئے تھے مگر اب یہ دورہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی کے نمائندے کے مطابق قراسو میں مقامی لوگوں نے مرکزی حکومت کے نمائندوں کو شہر سے نکال دیا ہے اور شہر کا انتظام چلانے کے ایک اجلاس کر رہے ہیں۔ آندیجان میں حکومت کی طرف مظاہرین کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بعد خراسو میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کر دیا اور شہر کے مئیر پر بھی حملہ کیا۔ مظاہرین نے ایک عارضی پل بھی تعمیر کر لیا ہے جس سے وہ پڑوسی ملک کرخستان میں جا سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||