فوجی اڈہ خالی کرنے کی منظوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ازبکستان کی سینیٹ نےامریکی فوج کے کرشی خان آباد کےفوجی اڈے سےانخلاء کی منظوری دے دی ہے۔ اس فوجی اڈے کوامریکہ افغانستان میں کاروائی کے لیے استعمال کرتارہا ہے۔ گزشتہ ماہ ازبک حکومت نےامریکہ کو کرشی خانہ آباد کا فوجی اڈہ چھ ماہ کے اندر خالی کرنے کو کہا تھا۔ ازبکستان کےدارالحکومت میں مئی میں ہونے والے ایک خونی احتجاج کے بعد امریکہ اور ازبک حکومت کےدرمیان تعلقات میں تناؤ آ گیا تھا۔ ازبک کے پڑوسی ملک کرغیرستان نے بھی امریکہ کو کہا ہے کہ افغانستان میں حالات کے بہتر ہونے کے بعد وہ اس کی سر زمین پر واقع اپنے زیراستعمال فوجی اڈاوں میں سے ایک خالی کردے۔ امریکی حریف روس اور چین نے بھی یہ بات واضح کردی ہے کہ وہ مستقل بنیادوں پر اس خطے میں امریکی فوجیوں کی موجودگی نہیں دیکھنا چاہتے۔ واشنگٹن پوسٹ کےمطابق جولائی کےمہینےمیں امریکہ کو کہا گیا تھا کہ کرشی خان کےفوجی اڈے سےفوج، فوجی ساز و سامان اور ائر کرافٹ ہٹالے۔ فوجی اڈہ خالی کرنے کا نوٹس امریکہ کو اس وقت دیا گیا جب اس کے وزیردفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ ازبکستان، کرغیرستان اور تاجکستان کا دورہ کرکے واپس پہنچے تھے۔ رمز فیلڈ کا کہنا ہے کہ فوجی اڈہ خالی کرنے سے افغانستان میں امریکی آپریشن متاثر نہیں ہو گا۔ خونی احتجاج پرامریکی تنقید کے بعد سے ازبک حکومت کی درخواست پر کرشی خان آباد پر فوجی اڑانوں میں پہلے ہی کمی کی جا چکی ہے۔ اس ماہ کےآغاز میں امریکہ نےازبک حکومت کو اس واقعہ کی مکمل تحقیق کروانے کا کہا تھا بصورت دیگر اس کی بائیس ملین ڈالر کی امداد روک دینے کا اشارہ دیا تھا۔ تیرہ مئی کو ہونے والے ایک احتجاج میں ازبک فوجی دستوں نے لوگوں پر گولیاں برسائیں تھیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس واقعہ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||