BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 May, 2005, 16:20 GMT 21:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ازبکستان: اٹھائیس افراد گرفتار
News image
ازبک پولیس نے اٹھائیس سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا ہے
ازبک پولیس نے اٹھائیس سے زائد لوگوں کو احتجاجی جلوس نکالنے کی
منصوبہ بندی کے الزام میں دارالحکومت تاشقند سےگرفتار کیا ہے۔ پولیس نےعلی الصبح ایک اپارٹمنٹ پر چھاپہ مار کر اس کے مالک اور مشہور
اپوزیشن رہنما وسیلیا اننویاتوتہ اور ستائیس دوسرے لوگوں کو حراست
میں لے لیا۔

گرفتار ہونے والے لوگوں پر یہ الزام ہے کہ وہ دو ہفتے قبل اندیجان میں ہونے والی ہلاکتوں پر ایک احتجاجی جلوس نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ان ہلاکتو ں کے بارے میں ازبک حکومت کا مؤ قف ہے کہ مرنے والوں کا تعلق اسلامی بنیاد پرست جماعت سے تھا۔

صدر اسلام کریموف نے تاشقند کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیڑز کے گروپ سے ملاقات کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا ۔ اس گروپ کے ازبک دورے کامقصد اسلام کریموف کو اس واقعے کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی انکوائری تشکیل دینے پر مجبور کرناتھا۔

گروپ نے اپوزیشن رہنما وسیلیا اننویاتوتہ کی بیگم سے ان کی گرفتاری سے چندگھنٹے پہلے ملاقات کی۔

مقامی لوگ خوف ذدہ ہیں اور ان معاملات پر خاموش ہیں۔ مگر کچھ دبے دبے لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ سیکورٹی فورسز ان لوگوں کے گھروں پررات کو چھاپے مار رہی ہیں جن پر ان کو شبہ کےوہ اس دن ہجوم کا حصہ تھے یا انھوں نے تمام عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

ایک متاثرہ خاندان نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ مسلح لوگ جنھوں نے اپنے چہروں کو چھپایا ہوا تھا ان کے بیٹوں کو پوچھ گچھ کے لیے لے گئے۔

ازبکستان میں ان دنوں گومگو کی سی کیفیت پائی جاتی ہے اور لوگوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ آ گے نہ جانے کیا ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد