ازبکستان: اٹھائیس افراد گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ازبک پولیس نے اٹھائیس سے زائد لوگوں کو احتجاجی جلوس نکالنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں دارالحکومت تاشقند سےگرفتار کیا ہے۔ پولیس نےعلی الصبح ایک اپارٹمنٹ پر چھاپہ مار کر اس کے مالک اور مشہور اپوزیشن رہنما وسیلیا اننویاتوتہ اور ستائیس دوسرے لوگوں کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ہونے والے لوگوں پر یہ الزام ہے کہ وہ دو ہفتے قبل اندیجان میں ہونے والی ہلاکتوں پر ایک احتجاجی جلوس نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان ہلاکتو ں کے بارے میں ازبک حکومت کا مؤ قف ہے کہ مرنے والوں کا تعلق اسلامی بنیاد پرست جماعت سے تھا۔ صدر اسلام کریموف نے تاشقند کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیڑز کے گروپ سے ملاقات کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا ۔ اس گروپ کے ازبک دورے کامقصد اسلام کریموف کو اس واقعے کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی انکوائری تشکیل دینے پر مجبور کرناتھا۔ گروپ نے اپوزیشن رہنما وسیلیا اننویاتوتہ کی بیگم سے ان کی گرفتاری سے چندگھنٹے پہلے ملاقات کی۔ مقامی لوگ خوف ذدہ ہیں اور ان معاملات پر خاموش ہیں۔ مگر کچھ دبے دبے لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ سیکورٹی فورسز ان لوگوں کے گھروں پررات کو چھاپے مار رہی ہیں جن پر ان کو شبہ کےوہ اس دن ہجوم کا حصہ تھے یا انھوں نے تمام عمل اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ایک متاثرہ خاندان نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ مسلح لوگ جنھوں نے اپنے چہروں کو چھپایا ہوا تھا ان کے بیٹوں کو پوچھ گچھ کے لیے لے گئے۔ ازبکستان میں ان دنوں گومگو کی سی کیفیت پائی جاتی ہے اور لوگوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ آ گے نہ جانے کیا ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||