انکوائری نہیں ہوگی: ازبکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ازبکستان کے صدر اسلام کاریموف نے گزشتہ ہفتے آندیجان شہر میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں حکومت مخالف مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کی ہلاکت کے معاملے کی چھان بین کرانےکی درخواست مسترد کر دی ہے۔ صدر اسلام کاریموف نے اقوام متحدہ سے کہا تھا کہ اس ہفتے سفارتکاروں اور صحافیوں کو آندیجان آنے کی اجازت دیئے جانا کافی ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیشنر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل حقائق جاننے کے لیے سفارتکاروں اور صحافیوں کا مختصر دورہ کافی نہیں ہو گا۔ ازبک حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپوں میں 169 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے تقریباً سبھی اسلامی شدت پسند تھے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں تقریباً ایک ہزار شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے امریکہ نے بھی دیگر ممالک کے مطالبے کو دہراتے ہوئے ازبکستان کے شہر آندیجان میں ہونے والے واقعات کے بارے میں عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکہ سے پہلے برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر لویز آربر بھی اسی طرح کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ازبک حکام کا کہناہے کہ مظاہرے کا اہتمام اسلامی شدت پسندوں نے کیا تھا۔ لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایاکہ کم ازکم 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ وسطی ایشیا میں سابق سوویت یونین کی سب سے زیادہ آبادی والی اس ریاست کی آبادی 26 ملین ہے۔ ازبکستان کو 1991 میں آزادی حاصل ہونے کے بعد سے اسلام کریموف اقتدار میں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی حکومت پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ سفارتکاروں کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ ان ہلاکتوں کی وجہ سے اسلام کریموف پر کس حد تک بین ا لاقوامی دباؤ ہے۔ حکومت کو لگتا ہے کہ انہیں باہر کی دنیا کو کچھ نہ کچھ دکھانا پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||