BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفارتکاروں کا اندیجان کا دورہ
اندیجان
انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام لگاتی رہی ہیں
ازبکستان کے قصبے اندیجان میں غیر ملکی سفارتکاروں کا ایک گروپ گزشتہ ہفتے ہونے والےتشدد کی تحقیقات کے لئے پہنچا ہے۔

ازبک حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ کے واقعہ میں 169 افراد ہلاک ہوئے ہیں حکام کا کہناہے کہ مظاہرے کا اہتمام اسلامی شدت پسندوں نے کیا تھا۔

لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایاکہ کم ازکم 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکہ نے ازبک حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس واقعہ کے پیشِ نظر وہ اپنے سیاسی نظام میں اصلاحات کرے۔

سفارتکاروں اور صحافیوں کا گروپ اس مقام کو دیکھنا چاہے گا جہاں گزشتہ ہفتے یہ واقعہ ہوا تھا۔ لیکن تاشقند میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس گروپ کو کوئی نئی بات سامنے آنے کی امید نہیں ہے۔

اس گروپ کو نہ تو قصبے میں آزادی سے گھومنے پھرنے کی اجازت ہوگی اور نہ ہی وہ سرکاری نگرانی کے بغیر مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کر سکیں گے۔

وسطی ایشیا میں سابق سوویت یونین کی سب سے زیادہ آبادی والی اس ریاست کی آبادی 26 ملین ہے۔ ازبکستان کو 1991 میں آزادی حاصل ہونے کے بعد سے اسلام کریموف اقتدار میں ہیں ۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی حکومت پر انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام لگاتی رہی ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سفارتکاروں او رصحافیوں کا یہ گروپ ادیجان سڑک کے راستے نہیں بلکہ فضائی راستے سے جائے گا اس طرح وہ یہ بھی نہیں دیکھ پائیں گے کہ عام شہریوں کے لیے ادیجان میں داخل ہونا اور وہاں سے باہر نکلنا کتنا مشکل ہے۔

تاہم یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ ان ہلاکتوں کی وجہ سہ اسلام کریموف پر کس حد تک بین ا لاقوامی دباؤ ہے۔حکومت کو لگتا ہے کہ انہیں باہر کی دنیا کو کچھ نہ کچھ تو دکھانا ہی پڑے گا۔اسی لئے اس دورے کی اجازت دی گئی۔

ادیجان
تشدد کی تحقیقات کے لئے سفارت کاروں کا گروپ

علاقے کے لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حکام نے اس دورے کی خاصی تیاری کی ہے

سڑکوں اور گلیوں کو دھویا جا رہا ہے اور حکومت ایسی کچھ عمارتوں کی مرمت بھی کرا رہی ہے تشدد کے دوران جن کو نقصان پہنچا تھا۔

ازبک حکومت کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والے تشدد کے پیچھے اسلامی شدت پسندوں کا ہاتھ ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد