BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 May, 2005, 14:41 GMT 19:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام کریموف کا اندازِ حکمرانی

اسلام کریموف اور ڈانلڈ رمزفیلڈ
اسلام کریموف امریکہ کی’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ کے حمایتی ہیں
سوویت دور میں جب سن انیس سو نواسی میں اسلام کریموف ازبکستان کی کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ سیکریٹری مقرر ہوئے تھے تو اس وقت سوویت نظام کی تعریف اور اسلام کریموف کی توصیف میں یہ کہا جاتا تھا کہ یتیم خانہ میں پرورش پانے والا ایک بچہ سویت نظام ہی میں اعلٰی تعلیم حاصل کر کے جمہوریہ کے اعلیٰ ترین عہدہ پر فائز ہو سکتا ہے۔

لیکن اسلام کریموف کی ترقی کا اصل راز سوویت کمیونسٹ پارٹی کا آمرانہ ڈھانچہ اور استبدادی طرز حکمرانی ہے جو سن انیس سو اکیانوے کے بعد بھی اسلام کریموف نے بر قرار رکھا-

اسلام کریموف کی ترقی کا ایک اور راز یہ تھا کہ ازبکستان کی سیاست پر حاوی دو قبائل تاشقند اور سمرقند میں سے ان کا تعلق سمرقند قبیلہ سے ہے-

سڑسٹھ سالہ اسلام عبدالغنی وچ کریموف چونکہ سویت یونین کی مسماری کے وقت ازبکستان کی سوشلسٹ جمہوریہ کے صدر تھے۔ لہذا انہوں نے اگست انیس سو اکانوے میں ازبکستان کی آزادی کا اعلان کر دیا اور کمیونسٹ پارٹی کا نام بدل کر پی ڈی یو پی رکھ کر پارمی کا انتظامی ڈھانچہ برقرار رکھا اور اسی کے بل پر انہوں نے دسمبر اکیانوے میں صدارتی انتخاب چھیاسی فی صد اکثریت سے جیت لیا۔

ان کے مدمقابل ارک پارٹی کے محمد صالح تھے جنہیں اپنی شکست کے فوراً بعد ملک چھوڑ دینا پڑا اور ترکی میں جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔

اسلام کریموف کا استبدادی انداز حکمرانی اور ان کے عزائم سن انیس سو پچانوے میں اسی وقت عیاں ہو گئے تھے جب انہوں نے ایک ریفرنڈم کرا کے اپنے عہدہ کی معیاد میں پانچ سال کی توسیع کرا لی تھی-

پھر سن دو ہزار میں جب صدارتی انتخاب ہوا تو وہ اکیانوے فیصد ووٹوں سے کامیاب قرار دیے گئے۔

اس انتخاب میں یورپ کی سلامتی اور تعاون کی تنظیم ’او ایس سی ای‘ نے اپنے مبصر بھیجنے سے صاف انکار کر دیا تھا کیونکہ اس کے خیال میں انتخاب کے لئے ماحول قطعی نا مناسب تھا اور عوام کے لئے کوئی متبادل نہیں تھا-

خود امریکی حکومت نے اسلام کریموف کے اس انتخاب کو رد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ انتخاب نہ تو آزادانہ تھا اور نہ منصفانہ-

سن اکیانوے میں ازبکستان کی آزادی کے فوراً بعد صدر اسلام کریموف نے اپنے مخالفین کو مسلم شدت پسند قرار دے کر انہیں گرفتار کرنا شروع کردیا تھا- اس حکمت علمی کے دو مقاصد تھے ایک تو اپنے مخالفین کو کچلنا تھا دوسرے امریکا کو مسلم شدت پسندی کا ہوّا دکھا کر زیادہ سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنا تھا-

اسلام کریموف کے جابرانہ انداز کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے سیکولر دانشوروں کی تنظیم برلک کو بھی ممنوع قرار دیا۔

پچھلے سال تاشقند اور دوسرے شہروں میں بم دھماکوں کے سلسلہ میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان پر مسلم شدت پسند تنظیم حزب التحریر سے تعلق کا الزام لگایا گیا تھا- لیکن بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ یہ محض امریکا اور مغربی ممالک کی ہمدری حاصل کرنے کی کوشش تھی-

مشرقی ازبکستان کی وادی فرغنہ کے شہر اندی جان میں تئیس عام تاجروں کی نظر بندی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو مسلم شدت پسند قرار دینا بھی اسلام کریموف کا وہی پرانا ہتھکنڈا ہو سکتا ہے۔

یہ صحیح ہے کہ فرغنہ وادی میں مسلم تنظیموں، حزب التحریر اور اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کا کافی اثر ہے لیکن اندی جان کا احتجاج در اصل اسلام کریموف کی حکومت کی بد عنوانیوں اور غیر جمہوری پالیسیوں کے خلاف احتجاج تھا جو اتنی بڑی خونریزی میں بدل گیا-

اسلام کریموف کی حکومت کے خلاف استبدادی رویہ کے علاوہ سنگین بد عنوانیوں کے بھی الزامات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- اسلام کریموف کی ایک بیٹی اس وقت ماسکو میں ازبک سفیر کی مشیر ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بڑی کاروباری سلطنت کی مالک ہیں جس میں ازبک موبائل فون کی سب سے بڑی کمپنی، متعدد نائٹ کلب اور ملک کی سب سے بڑی سیمنٹ فیکٹری شامل ہے-

اسلام کریموف انسانی حقوق ، شہری آزادیوں اور جمہوری اقدار کے خلاف نہایت سرکش رویہ کے باوجود امریکا اور مغرب کی ناراضگی سے بچے ہوئے ہیں- وجہ اس کی یہ ہے کہ افغانستان کی جنگ کے دوران اسلام کریموف نے امریکا کو خان آباد میں فوجی اڈے کے قیام کی منظوری دی ہے-

صدر بش نے اسلام کریموف کے جابرانہ اور غیر جمہوری انداز کی کبھی مذمت نہیں کی بلکہ انہوں نے اسلام کریموف کو واشنگٹن بلا کر انہیں پانچ سو ملین ڈالر کی امداد دی تھی-

امریکا کے نزدیک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان جتنا اہم ہے ازبکستان کو بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد