ازبکستان کا دورہ منسوخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ازبکستان کی طرف سے امریکی فوج کو قرشی خانہ آباد کا فوجی اڈہ خالی کرنے کے نوٹس دینے کے بعد امریکہ کے ایک اعلیٰ سفارت کار نے ازبکستان کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے اعلی اہلکار نکولس برنز نے کہا کہ اب ان کا تاشقند جانا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وسطی ایشیاء کا دورہ کئی ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی اصلاحات اور مئی میں ہونے والے عوامی احتجاج پر حکومتی تشدد کے معاملوں پر بات چیت کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کو انسانی حقوق کی صورت حال پر شدید تشویش ہے۔ پینٹاگن کے ترجمان گلین فلڈ نے کہا کہ ازبک حکومت نے ایک خط کے ذریعے امریکی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ چھ ماہ کے اندر ازبکستان میں اپنی تمام آپریشن بند کر دے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ ازبک حکومت کی طرف سے یہ درخواست کیوں کی گئی ہے اور امریکی وزارت خارجہ اس خط کا بغور جائزہ لیے رہا ہے۔ پینٹاگن کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ خط کے مندرجات کا جائزہ لیا جارہا ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس کا اصل مطلب کیا ہے۔ نکولس برنز جو امریکی وزارت خارجہ میں سیاسی امور کے انڈر سیکیرٹری ہیں کہا کہ امریکہ کو ان چار سو کے قریب ازبک مہاجرین کے بارے میں تشویش ہے جنہوں نے مئی کے احتجاجی مظاہروں کے بعد حکومتی تشدد سے بچنے کے لیے قازقستان میں پناہ لیے لی تھی۔ نکولس برنز نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کچھ مہاجرین کی رومانیہ منتقل میں مدد کی تھی کیوں کہ انہیں حکومتی عتاب سے بچانے کے لیے ازبکستان واپس بھیجا نہیں جا سکتا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||