BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 September, 2005, 11:01 GMT 16:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ازبک فوجی اڈہ خالی کردیں گے‘
کاشی خانہ آباد کا فوجی اڈہ
کاشی خانہ آباد کےفوجی اڈہ کو افغانستان میں امریکی آپریشن کے لیے گڑھ کی حیثیت حاصل تھی
امریکہ کے ایک سینئر سفارت کار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجی دستے اس سال کے آخر تک ازبکستان کا فوجی اڈہ خالی کر دیں گے۔

نائب امریکی وزیر خارجہ ڈینئل فرائڈ نے تاشقند میں مذاکرات کے بعد بتایا کہ امریکہ مزید کسی بات چیت کے فوجی اڈہ خالی کر دینے کے مطالبہ کو مان چکا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکہ کی مئی میں اندریجان میں ہونے والی صورت حال کو دبانے کی کوشش پر تنقید کے بعد دنوں ملکوں کے درمیان تعلقات مشکل دور میں داخل ہو گئے تھے۔ لیکن انہوں نےاس الزام کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دے کر مسترد کر دیا کہ امریکہ کا اس معاملے میں کوئی ہاتھ تھا۔

گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے بعد ازبکستان کے جنوب مشرقی حصے میں واقع کاشی خانہ آباد کے فوجی اڈے کو افغانستان میں امریکی آپریشن کے لیے گڑھ کی حیثیت حاصل تھی۔

فرائڈ نے ازبک صدر اسلام کریموف سے ملاقات کے بعد کہا کہ ’ازبک حکومت کو یہ بات صاف طور سے بتا دی گئی ہے کہ امریکہ اڈہ خالی کردے گا اور اس سلسلے میں وہ مزید کوئی بات چیت نہیں کرنا چاہتا‘۔

اندریجان میں مئی میں ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں پندرہ افراد زیر حراست ہیں جن پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ ان پر مختلف نوعیت کے الزامات لگائے گئے ہیں جن میں دہشت گردی، یرغمالیوں پر گولیاں برسانا اور ممنوعہ اسلامی گروہ سے تعلق شامل ہیں۔

گرفتار ہونے والوں نے ان تمام الزامات کو تسلیم کیا ہے جس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ سارے الزامات ان پر تشدد کر کے قبول کروائے گئے ہیں۔

ان پندرہ میں سے ایک نے پیر کواس بات کا اقرار کیا تھا کہ امریکہ نے اسے اس تشدد کے لیے پیسے دیے تھے لیکن اس الزام کو امریکی سفارت کار نے’مضحکہ خیز‘ قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چار سال تک اسلامی شدت پسندوں سے لڑنے کے بعد امریکہ کے اس معاملے میں پشت پناہی قابل اعتبار نظر نہیں آتی۔

اندریجان میں بارہ مئی کو تئیس تاجروں کی گرفتاری کے بعد تناؤ کا آغاز ہوا
تھا۔ ان تاجروں کومبینہ اسلامی شدت پسند قرار دے کر مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ ان کے ہمدردوں نے اندریجان کی جیل پر دھاوا بول کر ان تاجروں کو آزاد کروا لیا گیا تھا۔ اس کے بعد مسلحہ افراد نے ٹاؤن ہال پر قبضہ کر لیا تھا اور حکومت کے خلاف ایک بڑا احتجاج شروع ہو گیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ازبک سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے پانچ سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے لیکن ازبک حکومت نے مرنے والی کی تعداد ایک سو ستاسی بتائی تھی اور اس معاملے کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد