فلسطین، مصر کی درمیانی سرحد بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین کی سکیورٹی فورسز نے غزہ سے ملنے والی مصر کی سرحد پر نگرانی انتہائی سخت کر کے آمدورفت ناممکن بنا دی ہے کیونکہ گزشتہ کئی ہفتوں سے ہزاروں افراد غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کر رہے تھے۔ گزشتہ ہفتے فلسطینی اور مصری فوجی دستوں نے سرحدی باڑ میں بنائے گئے سوراخ بند کر دیے تھے۔ غزہ کی سرحد سے اسرائیل کی فوج کے انخلاء کے بعد فلسطینیوں کی بڑی تعداد نے سرحد کے راستے مصر میں داخل ہونا شروع کر دیا تھا۔ فلسطین کے رہنما محمود عباس نے اتوار کو سرحدی علاقے کا دورہ کیا۔
دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقے میں بدانتظامی اب ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باڑ میں بنائے گئے تمام سوراخ بند کیے جا چکے ہیں اور صورت حال قابو میں آگئی ہے۔ محمود عباس نے کہا کہ جانچ پڑتال کے نئے آلات یعنی میٹل ڈٹیکٹر سرحدوں پر نصب کیے جارہےہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدوں پر اس افراتفری سے اسمگلر فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ میں منشیات اور ہتھیار لے آئیں گے۔ صرف علاقے میں بسنے والے فلسطینیوں کو اندر آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ غزہ میں داخلے کے منتظر ایک شخص ابراہیم دروان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہ بہت غم زرہ اور مایوس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ بغیر کسی پابندی کے غزہ میں داخل ہوناچاہتے ہیں۔ سنیچر کو فلسطینی سرحدی دستوں کی ان مقامی لوگوں سے جھڑپ بھی ہوئی۔ جو سرحد کو پار کر کے مصر جانا چاہتے تھے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے بعد پھیلی افراتفری پر قابو پانا ہی دراصل محمود عباس کی انتظامیہ کا اصل امتحان ہوگا جو آج کل اپنے اختیارات کو منوانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||