| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی دھمکی، فلسطین کی برہمی
اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شیرون کے اس بیان پر فلسطینی رہنماؤں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے کہ اگر امن کے لئے فلسطین کی جانب سے پیش رفت نہ ہوئی تو وہ فلسطینی اور اسرائیلی علاقوں کو یکطرفہ طور پر تقسیم کرسکتے ہیں۔ امریکہ نے بھی شیرون کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے نقشہ راہ کی خلاف ورزی قبول نہیں کی جائے گی۔ فلسطینی وزیر اعظم احمد قریع نے اس بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک دھمکی قرار دیا ہے۔ فلسطین کے قانونی مشیر مائیکل ترازی کا کہنا ہے کہ یہ پیشکش بے معنی ہے اور یہ بیان اس لئے دیا گیا ہے تاکہ بعد میں فلسطینیوں پر اسے رد کرنے کا الزام لگایا جاسکے۔ ایرئیل شیرون نے کہا ہے کہ اگر تشدد آمیزکارروائیاں چند ماہ کے اندر اندر ختم نہ ہوئیں تو وہ یہودی بستیاں فلسطینی علاقوں سے الگ کرنے کے لئے یکطرفہ کارروائی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غرب اردن میں فصیل تعمیر کرنے کا کام تیز کردیا جائے گا۔ اس فصیل کی تعمیر سے فلسطینی آبادی والے کئی علاقے بھی اسرائیل کے زیر انتظام آجائیں گے۔ تاہم ایرئیل شیرون نے کہا کہ وہ اب بھی امریکہ کے تجویز کردہ نقشہ راہ کے حق میں ہیں کیونکہ یہی ایک سیکیورٹی منصوبہ ہے جسے دونوں فریقین کی حمایت حاصل ہے۔ تل ابیب میں ایک سیکیورٹی اجلاس میں تقریر کے دوران ایرئیل شیرون نے کہا کہ امریکہ سے کئے گئے وعدے کے مطابق اسرائیل غیر قانونی یہودی بستیاں تباہ کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی کارروائی سے کس طرح کے جذبات پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئی بستیوں کے لئے فلسطینی زمینیں ضبط نہیں کی جائیں گی۔ شیرون نے اپنی تقریر میں اصرار کیا کہ اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک ’دہشت گردی‘ کے ساتھ مکمل طور پر نپٹا نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی انتظامیہ میں اصلاحات کے بعد ہی سیاسی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ شیرون نے ایک مرتبہ پھر یاسر عرفات کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||