| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
یکطرفہ کارروائی کر سکتے ہیں: شیرون
اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے کہا ہے کہ قیام امن کے لئے وہ بہت دیر تک فلسطینیوں کا انتظار نہیں کریں گے اور انہوں نے اسرائیل کو فلسطینی علاقوں سے الگ کرنے کے لئے یکطرفہ کارروائی کی طرف اشارہ دیا۔ تاہم ایریل شیرون نے کہا کہ وہ اب بھی امریکی حمایت والے نقشہ راہ کے حق میں ہیں کیونکہ یہی ایک سیکیورٹی منصوبہ ہے جسے دونوں فریقین کی حمایت حاصل ہے۔ تل ابیب میں ایک سیکیروٹی اجلاس میں تقریر کے دوران ایریل شیرون نے کہا کہ امریکہ کو دیے گئے وعدے کے مطابق اسرائیل غیر قانونی یہودی بستیاں تباہ کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی کارروائی سے کس طرح کے جذبات پیدا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ نئی بستیوں کے لئے فلسطینی زمینیں ضبط نہیں کی جائیں گی۔ شیرون نے مزید کہا کہ اگر فلسطینی نقشۂ راہ کے تحت کیے گئے وعدو ں کو پورا نہیں کرتے تو اسرائیل خود کو فلسطینی علاقوں سے مکمل طور پر الگ کر لے گا اور فلسطینیوں کے درمیان رہنے والے اسرائیلیوں کی تعدادا بہت کم کی جائے گی۔ تاہم مسٹر شیرون نے اپنی تقریر میں اصرار کیا کہ تب تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک ’دہشت گردی‘ کے ساتھ مکمل طور پر نپٹا نہیں جاتا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی انتظامیہ میں اصلاحات کے بعد ہی سیاسی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ فلسطینی اپنی ریاست میں رہیں۔ شیرون نے ایک مرتبہ پھر یاسر عرفات پر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے ذمہ دار ہونے کا الزام لگایا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||