BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 August, 2005, 09:43 GMT 14:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افریقی امداد کا شاہانہ استعمال
ملاوی
ملاوی کو دنیا کا غریب ترین ملک تصور کیا جاتا ہے
برطانیہ کےادارہ برائے بین الاقوامی ترقی پرلاکھوں پاؤنڈ کی افریقی امداد کوضائع کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

اس سلسلے میں بی بی سی کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ افریقی ملک ملاوی میں امریکی ماہرین کی ہوٹلوں میں رہائش اور کھانے پرسات لاکھ سے زائد پاؤنڈ خرچ کیے گئے۔

قومی آڈٹ کےدفترکا کہنا ہے کہ وہ ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی جانب سے ماہرین کو بلوانے پر اسے کےخلاف تفتیشی کاروائی شروع کرسکتا ہے۔

اس سلسلے میں ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی جانب سے ان لگائے گئے الزامات کےجواب کا انتظار ہے جو امید ہے کہ ادارے کی طرف سےاتوار کو نشر ہونے والے ایک پروگرام میں دیا جائے گا۔

ادارے پرالزام لگایا گیا ہے کہ اس نےملاوی میں اپنے جاری ایک منصوبے کے لیے واشنگٹن ڈی سی سے بین الاقوامی پروازوں کے ذریعےقلم اور نوٹ کرنے کی کتابیں منگوائیں۔

بی بی سی کی اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ ملاوی میں ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی نے بہت سے منصوبے شروع کررکھے ہیں۔ ملاوی کو دنیا کا غریب ترین ملک تصور کیا جاتا ہے۔

امداد کا استعمال
 مختلف امریکی ارداروں کےماہرین جن میں نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹوٹ کے ماہرین بھی شامل ہیں، انہیں ملاوی میں پارلیمانی کمیٹی کے نظام کو بہتر بنانے کے منصوبے کے لیےمدعو کیا گیا تھا۔

چیریٹی ایکشن ایڈ کے پیٹرک واٹ کا کہنا ہے کہ یہ دوسری بڑی مثال ہے کہ امدادی پیسہ ان لوگوں پر خرچ نہیں کیا جارہا جو اس کے زیادہ مستحق ہیں۔

مختلف امریکی ارداروں کےماہرین جن میں نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹوٹ کے ماہرین بھی شامل ہیں، انہیں ملاوی میں پارلیمانی کمیٹی کے نظام کو بہتر بنانے کے منصوبے کے لیےمدعو کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کودی گئی ایک ملین پاؤنڈ کی امریکی امداد کا بڑا حصہ نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹوٹ کےماہرین پر خرچ کیا گیاہے۔

ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی چار سال سے جاری اس منصوبے کے لیے اب تک تین ملین پاؤنڈ کی رقم بطور عطیہ دے چکا ہے۔ جن میں سے پانچ لاکھ چھیاسی ہزار چار سو تئیس پاؤنڈ ملاوی میں نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹوٹ کےماہرین کے ہوٹلوں اور ایک لاکھ چھبیس ہزار باسٹھ پاؤنڈ ان کےکھانے پر خرچ کیے گئے۔

ادارے کےایک سابق رکن کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر، نوٹ کرنے کی کتابیں اور دوسرا دفتری سامان واشنگٹن ڈی سی سے بین الاقوامی پروازوں کےذریعےمنگوایا گیا۔

ورلڈ لرننگ کے نام سے ایک امریکی ادارے جسے چار ملین پاؤنڈ کی برطانوی امداد کو ملاوی میں معاشرتی نظام کو مضبوط بنانے کاذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اس نے چھ ماہ کے بعد تین لاکھ پاؤنڈ کی قیمت وصول کرکےاس معاہدے کو ختم کردیا ہے۔

شاہانہ اخراجات
 ادارے کےایک سابق رکن کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر، نوٹ کرنے کی کتابیں اور دوسرا دفتری سامان واشنگٹن ڈی سی سے بین الاقوامی پروازوں کےذریعےمنگوایا گیا۔

ملاوی کی ایک سماجی تنظیم کے رکن رفیق حیات کا امداد کےاس غلط استعمال پر کہنا ہے کہ ان نام نہاد ماہرین کے شاہانہ اخراجات پرلاکھوں روپے خرچ کیے گئے جنہوں نےمحض چند رپورٹیں بنا کر شیلفوں میں سجا دی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد