تشدد پرسکیورٹی کونسل کی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکیورٹی کونسل نےافغانستان میں طالبان، القاعدہ اور دوسرے شدت پسند گروہوں کی جانب سے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کےخصوصی نمائندے نے کونسل کو بتایا کہ شدت پسند حکومتی اور بین الاقوامی فورسز کو نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب ملک میں اگلے ماہ انتخابات ہونے والے ہیں۔ افغانستان میں اٹھارہ ستمبر کو ہونے والے پارلیمان اور صوبائی انتخابات کے انعقاد میں اقوام متحدہ مدد فراہم کررہا ہے۔ سکیورٹی کونسل کو بتایا گیا کہ ملک میں شدت پسندوں کا قلع قمع افغانستان حکومت کے بنیادی ایجنڈے میں شامل ہے۔ سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے جین ارنولٹ کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے چند ماہ سے بم دھماکوں اور جدید ہتھیار کی مدد سے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے حکومتی اراکین، فورسز، انتحابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور ان کے ساتھ کام کرنے والےافراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ انتخابی عمل کو متاثر کیا جاسکے۔ جین نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں امریکی اور نیٹوافواج کے دستے انتخابات کے دوران مختلف پولنگ سٹیشنوں پرتعینات کیے جائیں گے اور ان کےساتھ افغان پولیس اور فوج بھی ہو گی۔ اگلےماہ ہونے والے قومی اسمبلی کےایوان زیریں کے انتخابات میں دوہزار آٹھ امیدوار کھڑے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ کونسلوں کے انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیرجون بولٹن نے ایک تحریری بیان میں ان انتخابات کا خیرمقدم کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیرائمیرجون پیرے کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کونسل اور یورپی یونین افغان حکومت کو مدد فراہم کرتی رہے گی۔ انہوں نے انتخابات کےانعقاد کو افغانستان میں جمہوریت کی واپسی قرار دیا۔ سیکریٹری جنرل کوفی عنان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد وہ افغان حکومت اور بین الاقوامی کمیونٹی سے مستقبل میں ملک میں اقوام متحدہ کے کردار کے بارے میں بات کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||