افغانستان مظاہروں میں چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے شہر جلال آباد میں گوانتانامو بے کے امریکی فوجی جیل میں قیدیوں پر تشدد کے دوران قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے واقعات کی خبروں کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس فائرنگ سے چار افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبے جلال آباد میں پولیس نے مظاہرین پر اس وقت فائرنگ شروع کر دی جب مشتعل مظاہرین نے گاڑیوں، دکانوں اور ایک گزرتے ہوئے امریکی قافلے پر پتھراؤ کیا۔ جلال آباد میں مظاہروں کے بعد شہر کی سڑکوں پر امریکی فوج کو تعینات کر دیا گیا تھا۔ جلال آباد میں پاکستان قونصل خانہ پر بھی مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور قونصل خانے کی دو گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ دریں اثناء اقوام متحدہ نے بھی شہر سے اپنا عملہ واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مشتعل مظاہرین اقوام متحدہ کے ایک احاطے میں گھس گئے اور دو گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ اے پی نے انٹیلی جنس کے سربراہ سردار شاہ کے حوالے سے بتایا کہ مظاہرین نہایت غصے میں تھے اور پورے شہر میں پھیلے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ افغان پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ امریکی فوج نے بھی ہوائی فائرنگ کر کے ہجوم کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک موقع پر مشتعل ہجوم جس میں طالب علموں کی تعداد زیادہ تھی ’امریکہ مردہ باد‘ اور’ بش مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے ہوئے امریکی فوج پر پتھراؤ کر دیا جس کے بعد امریکی فوج وہاں سے چلی گئی۔ ہجوم میں فائرنگ کے بعد اضافہ ہو گیا اور اس میں شامل لوگوں نے صدر حامد کرزئی کے پوسٹر پھاڑ ڈالے۔ افغانستان کے دوسرے جنوبی صوبوں لغمان اور خوست سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||