BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 August, 2005, 10:01 GMT 15:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوازی لینڈ:جنسی پابندی ختم
نوجوان اس پابندی کے خلاف رہے ہیں۔
نوجوان اس پابندی کے خلاف رہے ہیں۔
افریقی ملک سوازی لینڈ کے شاہ نے نوجوان لڑکیوں پر پانچ سال پہلے لگائی گئی جنسی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شاہ نے یہ پابندی چھ سال کے لیے لگائی تھی لیکن اس معیاد سے ایک سال پہلے ختم کر دیا ہے۔

دو ہزار ایک میں لگائی گئی پابندی کے تحت نوجوان لڑکیوں کے لازمی تھا کہ وہ اپنی عفت کی علامت کے طور ایک مخصوص قسم کا اونی پُھندنا پہنیں۔ آج یہ پُھندنےایک بڑی تقریب میں جلا دیے جائیں گے۔

مذکور جنسی پابندی ملک میں ایڈز کی روک تھام کے لیے لگائی گئی تھی۔ واضح رہے کہ سوازی لینڈ ایڈز کی شرح کے لحاظ سے دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو اس بیماری سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ملک کی چالیس فیصد آبادی ایڈز میں مبتلا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنسی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی شخصیت بھی بادشاہ خود ہیں۔ انہوں نے یہ پابندی لگانے کے محض دو ماہ بعد خود ایک سترہ سالہ لڑکی سے شادی کر لی تھی جو ان کی نویں بیوی بنی۔ خواتین نے ان کی اس شادی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تاہم بادشاہ نے ایک گائے ہرجانے کے طور پر دے دی تھی۔

سرکاری سطح پر اس بات کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ جنسی پابندی ایک سال قبل ہی کیوں ختم کر دی گئی ہے۔

دوسری طرف ملک کی وزارت صحت نے ایڈز کے نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق پندرہ سے انیس سال کے شہریوں کا انتیس فیصد ایڈز کے وائرس کا شکار ہے۔

News image
شاہ سواتی پر ان کے انتہائی پرتعیش طرز زندگی کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے۔

سوازی لینڈ میں بی بی سی کے نامہ نگار تھلانی میتھتھوا کا کہنا ہے جنسی پابندی نہایت غیر مقبول اقدام تھا۔

نامہ نگار کے مطابق شہروں میں بہت کم لڑکیاں ’امچواشو‘ نامی اونی پُھندنا باندھ رہی تھیں۔

پابندی کے دوران لڑکیوں کے لازمی تھا کہ اگر وہ کسی رشتے میں منسلک ہوں تو تو پُھندنا گھر کے باہر پھینک دیں جس پر اس کے والدین کو ایک گائے بطور جرمانہ دینا ہوتی تھی۔

ملک کی اکثریت کو یہ اعتراض بھی رہا ہے کہ شاہ کی اپنی بیٹیاں کومخصوص پھُندنا باندھے کم ہیں دیکھا گیا ہے۔

لیکن ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سوازی لینڈ کے دیہی علاقوں میں لڑکیاں پُھندنا پہنتی رہی ہیں کیونکہ مقامی سردار اس پابندی پر عمل درآمد کرنے کرانے میں سختی کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح دیہی سکولوں نے بھی یہ شرط رکھ دی تھی کہ جب تک لڑکی پھُندنا نہیں باندھےگی اسے سکول میں داخلہ نہیں دیا جائے گا۔

پابندی اٹھائے جانے کا اعلان کرتے ہوئے لڑکیوں کے حقوق کی ایک ترجمان نے ریڈیو پر کہا کہ کہ انہیں بادشاہ کی طرف سے یہ اعلان کرنے کا حکم ملا ہے کہ ملک کی تمام دوشیزائیں شاہی محل کے سامنے جمع ہو کر اپنے اپنے پھنُدنے اتار پھینکیں تا کہ ان کو آگ لگائی جا سکے۔

شاہ سواتی کی آج کل بارہ بیویاں ہیں جبکہ ان کے والد کی ستر بیویاں تھیں۔

66ایڈز:علاج میں معاون
اینٹی بایوٹک سے شرحِ اموات نصف
66آپ کو ڈر لگتا ہے؟
کیا ایڈز ہمارے قریب پہنچ چکی ہے؟ آپ کی رائے
66ایڈز اب بھی بے قابو
کوفی عنان کہتے ہیں کہ ائڈز کے خلاف کوششیوں اب بھی نا کافی
66ایڈز: سوال پوچھیں
ایڈز کے بارے میں ریڈیو پر سوال پوچھیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد