مغربی عراق میں بڑا فوجی آپریشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے کہا ہے کہ عراق کے مغربی حصے میں مزاحمت کاروں کے خلاف ایک فوجی آپریشن میں ایک ہزار کے قریب امریکی اور عراقی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ ذرائع نے کہا ہے کہ فوج ہقلانیہ کے شہر میں داخل ہو گئی ہے اور فائٹر جیٹ فضا سے شہر کے باہر ان عمارات پر گولے برسا رہے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مزاحمت کار وہاں چھپے ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق فوجی وہاں گھر گھر تلاشی لے رہے ہیں۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ ہقلانیہ میں ہونے والا حملہ دو دن پہلے شروع ہونے والے بڑے آپریشن کا حصہ ہے جسے ’کویک سٹرائک‘ کے طور پر جانا جا رہا ہے۔ اسی دن چودہ امریکی فوجی اور ان کے مترجم ایک قریبی شہر حديثہ میں سڑک کے کنارے لگائے گئے ایک بم کے پھٹنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ دریں اثناء عراق کے نئے آئین سے متعلق تعطل کو دور کرنے کے لیے ہونے والے اہم اجلاس کو اتوار تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ صدر جلال طالبانی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اجلاس کو ملتوی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ افراد حصہ لے سکیں۔ اس مسودے کو پندرہ اگست کو پارلیمان میں پیش کیا جانا ہے لیکن ابھی تک اس کے جن اہم نکات پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ان میں ملک کا نیا سرکاری نام رکھنا بھی شامل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||