ترک وزیر اعظم واشنگٹن میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان واشنگٹن میں ہیں اور بدھ کو وہ صدر بش کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس دورے کا مقصد امریکہ کے ساتھ حال ہی میں ہوئے کشیدہ تعلقات کو بحال کرنا ہے۔ ترکی ایک سیکولر ملک ہے اور لمبے عرصے سے امریکہ کا نزدیکی اتحادی رہا ہے۔ لیکن دو برس قبل ان تعلقات میں اس وقت کشیدگی آگئی جب ترکی نے عراق پر حملے کے دوران شمالی محاذ کھولنے کے لئے امریکہ کو اپنی سرزمین کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ کچھ ماہ قبل امریکی وزیر دفاع نے کہا تھا کہ امریکہ شمال کی جانب سے عراق پر حملہ نہیں کر سکا جس کی وجہ سےعراقی شدت پسندوں کو مدد ملی ہے۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگار پیم او ٹول کا کہنا ہے کہ اس دورے سے ترکی اور واشنگٹن کو اپنے تعلقات بحال کرنے کا موقع ملے گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ابھی ان دونوں ممالک کے درمیان کافی فاصلے ہیں جن کو طے کرنا ہے واشنگٹن ترکی میں بڑھتے امریکہ مخالف جذبات سے پریشان ہے ۔اور ان جذبات کے لئے ترک پولیس کی جانب سے عراق جنگ کی مخالفت اور شمالی عراق سے ترکی کے کُرد باغی گروپ کو نکالنے میں امریکی ناکامی ذمہ دار ہے۔ ترکی کے وزیر اعظم کا شام کا دورہ بھی ان تعلقات میں مزید بد مزگی پیدا کرنے کا سبب بنا کیونکہ امریکہ شام پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ لیکن حالیہ مہینوں میں کچھ ایسے بھی اقدامات ہوئے ہیں جو ان فاصلوں کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ ان اقدامات میں امریکہ کی جانب سےعراق اور افغانستان سازو سامان بھیجنے کے لیے جنوبی ترکی کے فضائی اڈوں کے استعمال کو بڑھانے کی اجازت اور امریکی کانگریس کے ارکان کے وفد کا شمالی سائپرس کا اہم دورہ شامل ہے۔ صدر بش کے ساتھ اپنی بات چیت میں مسٹر اردوگان کرد باغی گروپ کو عراق سے نکالنے کی اپیل کو دہرائیں گے۔ حالانکہ ترکی کو اس بات کا اندازہ ہے کہ عراق میں امریکی افواج پہلے ہی مشکل کارروائیوں میں اُلجھی ہوئی ہیں اور واشنگٹن اس پر کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||