| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دھماکے: ترکی کا القاعدہ پر الزام
ترکی کی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ ماہ استنبول میں ہونے والے بم حملوں میں القاعدہ ملوث ہے۔ ترکی کے نائب وزیر اعظم عبدالطیف سنیر نے کہا کہ بمبار اور ان کے ساتھیوں کا القاعدہ تنظیم سے تعلق ہو سکتا ہے۔ ترکی میں دو ہفتے قبل یہودیوں کی عبادت گاہوں، برطانیہ کے قونصل خانے اور ایچ ایس بی سی بینک پر بم حملوں میں ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اتوار کے روز شام نے بائیس مشتبہ افراد کو ترکی کی حکومت کے حوالے کیا تھا جو مبینہ طور پر استنبول میں ہونے والے بم حملوں میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ یہ مشتبہ افراد ترکی سے فرار ہو کر شام پہنچے تھے۔
ترک کابینہ کے اجلاس کے بعد مسٹر سنیر نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب تک استبنول حملوں کے شبے میں اکیس افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ سولہ مزید افراد سے پوچھ کچھ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے استنبول کے بم حملوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔ ترکی حکومت اب تک حملوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے کو صرف ایک امکان کے طور پیش کر رہی تھی۔ ان کے خاندان کے افراد کے ڈی این اے نے نمونے لینے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملوں میں ملوث چاروں خود کش بمباروں کی نشان دہی کر دی ہے۔ ان کے نام الیاس کنساک، میسوت کابوک، گوخان اور فریدون بتائے جاتے ہیں۔ چاروں افراد شادی شدہ تھے اور انہوں نے ترکی سے باہر شدت پسند کارروائیوں کی تربیت حاصل کی تھی۔
اس سے پہلے استنبول کے گورنر نے برطانیہ کے بینک ایچ ایس بی سی کی شاخ پر حملہ کرنے والے شخص کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا اس حملے میں الیاس کنساک نامی شخص ملوث ہے جو کہ چالیس برس کا ہے اور حال ہی میں انقرہ آیا تھا۔ ترکی کے سرحدی صوبے ہتائے کے گورنر کا کہنا ہے کہ شامی حکام نے مشتبہ افراد کو ترکی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا۔ ترکی کی پولیس کے ایک بیان کے مطابق ان افراد میں وہ میاں بیوی بھی شامل ہیں جو حملوں کے سب سے بڑے ملزم عزت اکنسی کے قریبی بتائے جاتے ہیں۔ خود عزت اکنسی ان افراد میں شامل نہیں ہے جنہیں ترکی منتقل کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||