BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 December, 2003, 00:04 GMT 05:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکے: ترکی کا القاعدہ پر الزام
ترکی میں بم حملوں کے زخمی
دو ہفتے پہلے ہونے والے حملوں میں ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے

ترکی کی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ ماہ استنبول میں ہونے والے بم حملوں میں القاعدہ ملوث ہے۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم عبدالطیف سنیر نے کہا کہ بمبار اور ان کے ساتھیوں کا القاعدہ تنظیم سے تعلق ہو سکتا ہے۔

ترکی میں دو ہفتے قبل یہودیوں کی عبادت گاہوں، برطانیہ کے قونصل خانے اور ایچ ایس بی سی بینک پر بم حملوں میں ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اتوار کے روز شام نے بائیس مشتبہ افراد کو ترکی کی حکومت کے حوالے کیا تھا جو مبینہ طور پر استنبول میں ہونے والے بم حملوں میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ یہ مشتبہ افراد ترکی سے فرار ہو کر شام پہنچے تھے۔

برطانوی قونصل خانہ
برطانوی قونصل خانے کو بھی گزشتہ ماہ ہونے والے خود کش حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا

ترک کابینہ کے اجلاس کے بعد مسٹر سنیر نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب تک استبنول حملوں کے شبے میں اکیس افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ سولہ مزید افراد سے پوچھ کچھ کی جا رہی ہے۔

انہوں نے استنبول کے بم حملوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔ ترکی حکومت اب تک حملوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے کو صرف ایک امکان کے طور پیش کر رہی تھی۔

ان کے خاندان کے افراد کے ڈی این اے نے نمونے لینے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حملوں میں ملوث چاروں خود کش بمباروں کی نشان دہی کر دی ہے۔

ان کے نام الیاس کنساک، میسوت کابوک، گوخان اور فریدون بتائے جاتے ہیں۔ چاروں افراد شادی شدہ تھے اور انہوں نے ترکی سے باہر شدت پسند کارروائیوں کی تربیت حاصل کی تھی۔

مشتبہ افراد
اب تک اکیس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے

اس سے پہلے استنبول کے گورنر نے برطانیہ کے بینک ایچ ایس بی سی کی شاخ پر حملہ کرنے والے شخص کی نشاندہی کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا اس حملے میں الیاس کنساک نامی شخص ملوث ہے جو کہ چالیس برس کا ہے اور حال ہی میں انقرہ آیا تھا۔

ترکی کے سرحدی صوبے ہتائے کے گورنر کا کہنا ہے کہ شامی حکام نے مشتبہ افراد کو ترکی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا۔

ترکی کی پولیس کے ایک بیان کے مطابق ان افراد میں وہ میاں بیوی بھی شامل ہیں جو حملوں کے سب سے بڑے ملزم عزت اکنسی کے قریبی بتائے جاتے ہیں۔

خود عزت اکنسی ان افراد میں شامل نہیں ہے جنہیں ترکی منتقل کیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد