BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 November, 2003, 15:28 GMT 20:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ترکی میں چونسٹھ پاکستانی گرفتار
سری لنکا سے بھی حال ہی میں پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا ہے
سری لنکا سے بھی حال ہی میں پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا ہے

قانون نافذ کرنےوالے ترک اداروں نے چونسٹھ پاکستانیوں کو ازمیر کے علاقے سے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے یورپ اسمگل کئے جانے پرگرفتار کیا ہے۔

پاکستانیوں کے ساتھ دو یونانی ملاحوں اور دو ترک باشندوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ترک حکام کے مطابق ان چار افراد کا تعلق مبینہ طور پر انسانوں کو اسمگل کرنے والے ایک گروہ سے ہے۔

ترک نیم فوجی دستوں کے ایک بحری یونٹ نے منگل کوایک کشتی کو روک کر اس میں سوار چونسٹھ پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا۔ پاکستانیوں کے علاوہ اس کشتی کے عملے کو بھی حراست میں لے لیاگیا ہے۔ اس کشتی کے ذریعے پاکستانی ایک بحری جہاز پر سوار ہونے والے تھے جو سیسمی کی تفریح گاہ کے قریب سمندر میں ان کا انتظار کر رہا تھا۔

ترکی کے راستے ایشیا کے بہت سے ملکوں سے لوگوں کو یورپ اسمگل کیا جاتا ہے اور ترکی پولیس کے لیے اس طرح کی کارروائیاں ایک معمول بن گئی ہیں۔

غیر قانونی تارکین وطن عام طور پر زمینی یا سمندری راستے سے یونان سے ہوتے ہوئے یورپ میں داخل ہوتے ہیں۔

انقرہ میں پاکستان کے سفیر شیر افگن نے بی بی سی ریڈیو سے انٹرویو میں اس تازہ ترین واقعہ سے لاعملی کا اظہار کیا اور کہا کہ عام طور پر ترک حکام انہیں فوراً اطلاع کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس ستاسی پاکستانیوں کو گرفتار کر کے پاکستان بھیجا گیا تھا۔ انہوں کہا کہ اس سے پہلے بھی ایک سو چار پاکستانی پکڑے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پکڑے جانے والے پاکستانیوں میں زیادہ تر کا تعلق گجرات اور جہلم کے علاقوں سے تھا۔

انہوں نے کہا کے ترک حکام ان پاکستانیوں کو واپس بھیجنے میں بہت تعاون کرتے ہیں اور ان کو یہاں قید نہیں رکھا جاتا۔

شیر افگن نے کہا کہ وہ کئی بار وزارت خارجہ کے توسط سے متعلقہ اداروں سے ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی سفارش کر چکے ہیں جو معصوم لوگوں کو جھانسہ دے کر یورپ اسمگل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایجنٹ ان پاکستانیوں کو یہاں چھوڑ کر ان کے پاسپورٹ تک اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ پاکستان سفارت خانہ ان کو ہنگامی پاسپورٹ جاری کر کے انہیں ایران کے راستے واپس وطن بھیجتاہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد