 |  عراق کے نئے صدر جلال طالبانی معزول صدر صدام حسین کے ساتھ |
عراق کے نئے صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ وہ صدام کو سزائے موت دینے کی حمایت نہیں کریں گے۔ مسٹر جلال طالبانی سزائے موت کے مخالف ہیں اور نئی عراقی قیادت میں وہ اکیلے رہنما ہیں جو سزائے موت ختم کرنے کی پیروی کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہیں انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ان کے دو نائب صدر جن میں سے ایک سنی اور ایک شیعہ ہے سزائے موت کے حکم نامہ پر دستخط کر سکتے ہیں۔ معزول عراقی صدر پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلایا جانے والا ہے اور ان کے دور میں ہزاروں کردوں کو مبینہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ طالبانی خود بھی کرد ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہیں گے اور سزائے موت کے کسی حکم پر دستخط نہیں کریں گے۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسٹر طالبانی نے کہا ہے کہ اگر شورشیوں کے خلاف کردوں، شیعوں اور سنیوں کی ملیشیاؤں اور مسلح افراد کو استعمال کیا ہوتا تو عراق میں شورش کب کی ختم ہو جاتی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبہ بندی کی بجائے کہ برسوں کی کوششوں کے نتیجے میں عراقی فوج کی تشکیل اور تربیت مکمل ہو اور وہ امریکہ کی سالاری میں قائم اتحاد سے انتظام اپنے ہاتھوں لے کر شورش کا خاتمہ کرے یہ کہیں بہتر ہوتا کہ شدت پسندوں کے خلاف غیر منظم مسلح قوتوں کو استعمال کیا جاتا۔ |