BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 April, 2005, 00:20 GMT 05:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سزائے موت کی حمایت نہیں کرونگا‘
جلال طالبانی
عراق کے نئے صدر جلال طالبانی معزول صدر صدام حسین کے ساتھ
عراق کے نئے صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ وہ صدام کو سزائے موت دینے کی حمایت نہیں کریں گے۔

مسٹر جلال طالبانی سزائے موت کے مخالف ہیں اور نئی عراقی قیادت میں وہ اکیلے رہنما ہیں جو سزائے موت ختم کرنے کی پیروی کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہیں انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ ان کے دو نائب صدر جن میں سے ایک سنی اور ایک شیعہ ہے سزائے موت کے حکم نامہ پر دستخط کر سکتے ہیں۔

معزول عراقی صدر پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ چلایا جانے والا ہے اور ان کے دور میں ہزاروں کردوں کو مبینہ کیمیائی ہتھیار استعمال کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔

طالبانی خود بھی کرد ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہیں گے اور سزائے موت کے کسی حکم پر دستخط نہیں کریں گے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسٹر طالبانی نے کہا ہے کہ اگر شورشیوں کے خلاف کردوں، شیعوں اور سنیوں کی ملیشیاؤں اور مسلح افراد کو استعمال کیا ہوتا تو عراق میں شورش کب کی ختم ہو جاتی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبہ بندی کی بجائے کہ برسوں کی کوششوں کے نتیجے میں عراقی فوج کی تشکیل اور تربیت مکمل ہو اور وہ امریکہ کی سالاری میں قائم اتحاد سے انتظام اپنے ہاتھوں لے کر شورش کا خاتمہ کرے یہ کہیں بہتر ہوتا کہ شدت پسندوں کے خلاف غیر منظم مسلح قوتوں کو استعمال کیا جاتا۔

66زیادہ خطرناک صدام
صدام زیادہ خطرناک تھا، ہے یا ہوگا؟
66قید کا ایک سال
صدام حسین کی گرفتاری کو ایک سال ہو گیا ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد