’صدام کا جانا حل نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے صدر ژاک شیراک نے کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ صدام حسین کی معزولی کے بعد دنیا محفوظ ہو گئی ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں فرانسیسی صدر نے یہ عندیہ دیا کہ عراق کی صورتِ حال نے دہشت گردی کو مزید ہوا دی ہے۔ صدر شیراک اس ہفتے برطانیہ کا دورہ کر رہے ہیں لیکن انہوں نے بی بی سی ٹو کے پروگرام نیوز نائٹ کو اپنی آمد سے پیشتر انٹرویو دیا تھا جو بدھ کو نشر کیا جارہا ہے۔ اس انٹرویو میں ژاک شیراک نے کہا کہ عراق میں کسی بھی قسم کی مداخلت اقوامِ متحدہ کے ذریعے کی جانی چاہیئے تھی۔ انہوں نے کہا: ’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے جس کا ایک ماخذ عراق کی صورتِ حال ہے۔‘ جب ان سے صدر بش کے اس بیان پر تبصرے کے لیے کہا گیا جو امریکی صدر بنے بار بار کہا ہے کہ صدام کے بعد دنیا ایک محفوظ جگہ بن گئی ہے تو فرانسیسی صدر نے کہا ایک حد تک تو صدام حسین کی معزولی ایک مثبت چیز تھی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ’صدام کے جانے سے ردِ عمل بھی سامنے آیا ہے۔ مثلاً کئی ممالک میں اسلام کی عورتیں اور مرد متحرک ہوگئے ہیں جس سے دنیا اور زیادہ خطرناک ہوگئی ہے۔‘ ’میں یقین سے بالکل نہیں کہہ سکتا کہ آج دنیا زیادہ محفوظ ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہ امریکی سالاری میں لڑی جانے والی جنگ کو برطانیہ کی حمایت ملنے مفید ثابت ہوئی ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||