رمزے کلارک صدام کے دفاع میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے ایک سابق اٹارنی جنرل اور بائیں بازو کے حامی رمزے کلارک وکلاء کی اس ٹیم میں شامل ہوگئے ہیں جو صدام حسین کا دفاع کررہا ہے۔ یہ پینل اردن کے دارالحکومت اومان میں قائم کیا گیا ہے۔ رمزے کلارک صدر لنِڈن بی جانسن کے دوِر حکومت میں اپنے عہدے پر فائز تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا اہم ترین مقصد صدام حسین کے حقوق کا دفاع ہے جنہوں نے اپنی گرفتاری کے ایک سال بعد پہلی مرتبہ اس ماہ ایک وکیل سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے صدام حکومت کے عہدیداران کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے قائم کیے جانے والے خصوصی ٹرائی بیونل کے بارے میں کہا ہے کہ یہ بھی مکمل طور پر امریکی قابض افواج ہی کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ٹرائی بیونل کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ رمزے کلارک وکلاء کے جس پینل میں شامل ہوئے ہیں ان میں عرب اور غیر عرب وکلاء ہیں اور ان سب نے رضاکارانہ طور پر سابق عراقی صدر صدام حسین کے دفاع کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ کلارک نے امریکی حملے سے کچھ ہی پہلے فروری 2003 میں بغداد میں صدام حسین سے ملاقات کی تھی اور وہ کھلم کھلا عراق کے لیے امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||