یمنی قیدیوں کی منتقلی رک گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے ایک جج نے یمن کے تیرہ قیدیوں کی سلامتی کے پیش نظر گوانتانامو کے حراستی مرکز سے ان کی منتقلی کے عمل کو روک دیا ہے ۔ وکیلوں کا کہنا ہے کہ اگر ان قیدیوں کو یمن یا کسی اور ملک بھیجا گیا تو انہیں ٹارچر کرنےیا پھر عمر بھر قید رکھے جانے کا اندیشہ ہے۔ اب یہ قیدی اس وقت تک گوانتانامو بے میں ہی رہیں گے جب تک عدالت اس درخواست پر غور نہیں کر لیتی کہ حکام ان قیدیوں کو وہاں سے منتقل کرنے سے پہلے وکلاء کو تیس دن کا نوٹس دیں۔ پنٹا گون گوانتا نامو سے قیدیوں کی تعداد کم کرنا چاہتی ہے گوانتا نامو بے میں اس وقت تقریباً 540 قیدی ہیں جن میں سو( 100) قیدی افغانستان سے اور اتنے ہی سعودی عرب اور یمن سے ہیں۔ پنٹا گون چاہتی ہے کہ ان قیدیوں کو ان کے اپنے ممالک میں منتقل کر دیا جائے تاکہ وہاں ان کی رہائی یا قید جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جائے ۔لیکن اس سے پہلے قیدیوں کی منتقلی کے عمل کی کوششوں کو امریکہ کی سلامتی اور قیدیوں کے ساتھ غلط برتاؤ کے خدشہ سے روک دیا گیا تھا ۔ گوانتا نامو بے میں رکھے جانے والے زیادہ تر قیدیوں کو اب انٹیلی جینس کے نظریے سے زیادہ اہم نہیں سمجھا جا رہا۔ ان میں سے بیشتر کو افغانستان کے خلاف امریکی فوجی کاروائی کے دوران پکڑا گیا تھا جو نیو یارک میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے جواب میں کی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||