 |  پیرس میں متاثرہ ممالک سے قرضوں کی وصولی منجمند کرنے پر غور |
قرضے دینے والے ممالک کے پیرس کلب میں شامل فرانسیسی حکام اس معاملے پر غور کریں گے کہ آیا سونامی سے متاثرہ ممالک سے قرضوں کی وصولی منجمد کی جائے یا نہیں؟ پیرس کلب کے متعدد ممتاز رکن ممالک پہلے ہی قرضوں کی وصولی منجمند کرنے کی تجویز کی حمایت کر رہے ہیں مگر اس کی شرائط طے کرنا ابھی باقی ہے۔ پیرس کلب کے رکن ممالک کو قرضوں کی وصولی کے سلسلے میں اس برس تقریباً پانچ ارب ڈالر کی ادائیگی باقی ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے سونامی کے متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیوں میں رابطہ کاری کرنے والے اعلیٰ اہلکار ژان ایگلینڈ نے امیر ممالک کی طرف سے متاثرین کے لیے فوری رقم فراہم کرنے کی یقین دہانی کا خیرمقدم کیا جس کے بعد کلب کے ارکان کا اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔  |  جنیوا میں اقوام متحدہ کا پرچم سرنگوں ہے |
جنیوا میں ہونے والی ایک کانفرنس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ژان ایگلینڈ نے کہا کہ امدادی ممالک نے طوفان کے بعد زندہ بچ جانے والوں کی مدد کے لیے آئندہ چھ ماہ میں اکہتر کروڑ ستر لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ نے طوفان کے بعد اتنی قلیل مدت میں اس قدر خطیر رقم جمع کی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کا گروپ G7 پہلے ہی قرضوں کی وصولی منجمد کرنے کی تجویز کی حمایت کر چکا ہے۔ برطانیہ کے وزیر خزانہ G7 گروپ کے سربراہ ہیں۔ G7 کے ارکان اب پیرس کلب کے دیگر اراکین کے ساتھ مل کر تجویز کے عوامل پر غور کے علاوہ اس بات پر بھی سوچ بچار کریں گے کہ آیا طوفان سے متاثرہ ممالک کو انفرادی ضروریات کی بنیاد پر امداد دی جائے؟ دوسری جانب ماہرین اقتصادیات نے متنبہ کیا ہے قرضوں کو منجمند کرنے کی شرائط انتہائی محتاط طریقے سے طے کرنےکی ضرورت ہو گی تاکہ متاثرہ ممالک پر طویل المدت بوجھ نہ پڑے۔ |