’یہ حکمرانی بچانے کی لڑائی ہے‘

ایران اور سعودی عرب دونوں ہی اپنی سیاسی کشمکش کو بہت حد تک مسلکی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنایران اور سعودی عرب دونوں ہی اپنی سیاسی کشمکش کو بہت حد تک مسلکی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

سعودی عرب میں ممتاز شیعہ عالم دین شیخ نمر باقر النمر کو موت کی سزا دیے جانے کے بعد پورے خلیج میں سیاسی بے چینی پھیل گئی ہے۔

خلیجی ممالک شیعہ اور سنی مسلک کے اعتبار سے اپنی اپنی سیاسی حمایتوں اور وفاداریوں کا اعلان کر رہے ہیں۔

اس مسلکی تناؤ اور کشیدگی کی بازگشت جنوبی ایشیا تک پہنچ چکی ہے۔

شیخ النمر یوں تو مذہبی رہنما تھے لیکن وہ پاکستان اور بھارت کی جماعت اسلامی اور جمعیت العلما کے رہنماؤں کی طرح سیاست کیا کرتے تھے۔ وہ حکمراں سعودی خاندان کےسخت خلاف تھے۔

یہ تو تھا ظاہری سیاسی اور مسلکی پہلو جس کے پس منظر میں شیخ نمر کو موت کی سزا دی گئی۔ در اصل سعودی عرب اور ایران کےدرمیان ایک عرصے سے مذہبی اور سیاسی اثر رسوخ بڑھانے کے سوال پر رسہ کشی چل رہی ہے۔

گذشتہ برس امریکہ اور پانچ بڑے ملکوں کے ایران کے ساتھ جوہری سوال پر معاہدہ ہونے اور شام کے مسئلے کوحل کرنے کے لیے اس مہینے کے اواخر میں جنیوا میں شروع ہونے والے مذاکرات میں ایران کو بھی ایک فریق کے طور پر شامل کرنے سے سعودی عرب کا سنی حکمراں خاندان گبھرایا ہوا ہے۔ یمن سے لےکر شام، لبنان، بحرین اور عراق تک ایران کا سیاسی اور مذہبی اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

شیخ نمر کی پھانسی کے بعد تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا اور سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنشیخ نمر کی پھانسی کے بعد تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا اور سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے

سعودی عرب ایک طرف تو تیل کی قیمتیں گرنے سے معاشی طور پر زبردست دباؤ میں ہے اور دوسری جانب یمن میں سعودی عرب کے پڑوس میں شیعہ حوثی باغیوں کا عروج سعودی حکمرانوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان سیاسی اور مذہبی اثر و رسوخ کی لڑائی سعودی عرب پر پڑتے ہوئے دباؤ کا بھی عکاس ہے۔

سعودی عرب سیاسی اعتبار سے دنیا کا سب سے قدامت پسند ملک تصور کیا جاتا ہے۔ ملک میں شہریوں کو بیشتر سیاسی اورانفرادی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ لوگوں میں سیاسی اصلاح کے لیے بے چینی بڑھ رہی ہے لیکن سعودی حکمراں اقتدار کھونے کے خدشے سے کسی جامع اور ٹھوس قدم اٹھانے سے گریز کرتے آئے ہیں۔

ایران بھی سنہ 1979 سے آیت اللہ خمینی کے اسلامی انقلاب کے بعد سخت گیر ملاؤں کی گرفت میں رہا ہے۔ ایران 35 برس کی سخگيریت کےجبر اور ظلم سے نکلنے کے لیے بےتاب ہے لیکن ملک کی سیاست پر ملاؤں کی گرفت اتنی ہی مضبوط ہے جتنی کمیونزم کے خاتمے سے پہلے سویت یونین پر کمیونسٹ پارٹی کی ہوا کر تی تھی۔

ایران اور سعودی عرب دونوں ہی اپنی سیاسی کشمکش کو بہت حد تک مسلکی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت وہی صورت حال ہے جو 80 کی دہائی کے اختتام اور 90 کےعشرے کےابتدائی دنوں میں رومانیہ، مشرقی جرمنی اور پولینڈ سے لے کر سویت یونین تک پھیلی ہوئی تھی۔

شیعہ عالم کی موت کے بعد دنیا بھر میں سعودی عرب کے خلاف مظاہرے ہوئے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشیعہ عالم کی موت کے بعد دنیا بھر میں سعودی عرب کے خلاف مظاہرے ہوئے

ایران، کویت، متحدہ عرب امارات، اردن، لبنان اور شام ایسے ممالک ہیں جہاں سیاسی اور انفرادی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ یہ ممالک رفتہ رفتہ اب اس منزل کی جانب بڑھ رہے جب یہ رومانیہ اور سویت یونین کی طرح اپنے ہی نظام کے بوجھ سےٹوٹ جائیں گے۔

ان سبھی ممالک کی سیاست کا سب سے اہم پہلو مذہب رہا ہے جس کا استعمال وہ صرف اپنے ذاتی اقتدار کو برقرار رکھنے کےلیے کرتے آئے ہیں۔ مذہب دراصل ان کی سیاست کا یرغمال رہا ہے۔

سیاسی تھیوری کے اعتبار سے ان ممالک میں تین مرحلوں میں سے ایک مرحلہ گزر چکا ہے۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب ان ملکوں کے حکمراں اپنی عوام کا اعتبار اور احترام کھو دیتے ہیں۔ دوسرا مرحلہ وہ ہے جب عوام کےاندر موجودہ نظام سے شدید بیزاری اور بے چینی ییدا ہونے لگتی ہے۔ تیسرے مرحلے میں یہ نظام ٹوٹ جاتا ہے یا لوگ اس نظام کو اکھاڑ پھینکتے ہیں۔

پورا مشرقِ وسطیٰ انہی مرحلوں سے گزر رہا ہے۔ 21 ویں صدی میں 19 ویں صدی کے سیاسی اصولوں سے ملک اور حکومتیں نہیں چلائی جا سکتیں۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک سیاسی آتش فشاں ہے جو کسی بھی لمحے پھوٹ سکتا ہے۔ یہ سیاسی انتشار ان ممالک کے لیے ہی نہیں پوری دنیا کے لیے ایک نیک فعال نہیں ہے۔