مودی حکومت انتقام میں الجھ گئی ہے؟

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
نریندر مودی نے دو برس قبل اپنی انتخابی مہم کا آغاز ترقی کے نعرے کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن اپنی انتخابی مہم میں انھوں نے یہ نعرہ بھی دیا تھا کہ بھارت میں کانگریس کا خاتمہ کرنا ہے۔
انتخابی سیاست کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب ایک سیاسی جماعت دوسری جماعت کو شکست دینے کے بجائے اسے ختم کر دینے کے غیر جمہوری ارادے کےساتھ انتخاب میں اتری تھی۔
کسی جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات ہونا ایک فطری اور ضروری پہلو ہوتا ہے اور یہ عوام کو ایک بہتر متبادل چننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن کانگریس کوئی فسطائی یا نازی پارٹی نہیں تھی کہ جسےختم کرنے کی بات کی جاتی۔ لیکن بہت سےلوگوں کا خیال ہے کہ یہ وزیر اعظم مودی کےسیاسی طریقۂ کار اور نظریے کا ایک بہت اہم منفی پہلو ہے۔ کیا مودی انتقام کی سیاست میں الجھ گئے ہیں؟
دو برس قبل سابقہ اتحادی اور بہار کے وزیراعلی نتیش کمار نے وزارت عظمی کےامیدوار کے طور پر مودی کی مخالفت کی تھی۔ مودی وزیر اعظم بننے کےبعد اسے بھول نہیں پائے اور بہار میں نتیش کے خلاف انھوں نے ذاتی طور پر انتخابی مہم کی قیادت کی۔ انتقام کےاس عمل میں انھیں منہ کی کھانی پڑی۔

مودی نے سیاست میں اوپر آنے کے بعد کبھی شکست نہیں دیکھی تھی۔ سب سے پہلی شکست اروند کیجریوال نے انھیں دہلی کے انتخاب میں دی۔ اس شکست فاش کو مودی کبھی بھول نہیں پائے۔
مودی حکومت نے وزیر اعلی کیجریوال کی ریاستی سرکار کو تقریبا مفلوج کر رکھا ہے۔ پچھلے دنوں سی بی آئی نے کیجریوال کے دفتر میں ان کے پرنسپل سکریٹری پر چھاپہ مارا۔ کیجریوال نے اسے ان کے افسروں کو دھمکانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
اس کےجواب میں کیجریوال نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر بدعنوانی کے ایسے الزامات عائد کیے ہیں کہ سی بی آئی کا چھاپہ مودی حکومت کے لیے کافی بھاری پڑتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ پی چدامبرم کےدور میں ہی گجرات فسادات کے سلسلے میں مودی پر فسادیوں کی پشت پناہی کا الزام لگتا رہا تھا۔ انھی کی وزارت میں مودی کے قریبی معتمد اور بی جے پی کے صدر امت شاہ پر سی بی آئی نے فرضی انکاؤنٹر کا مقدمہ دائر کیا تھا اور کئی مہینے وہ جیل میں بھی رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد اسی سی بی آئی نے امت شاہ کے خلاف قتل کے تمام الزامات واپس لے لیے۔ پچھلے دنوں انفورسمنٹ ڈائرکٹریٹ نے چدامبرم کے بیٹے کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ چدامبرم نے اسے انتقامی کاروائی قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی کے خلاف بی جے پی نے مقدمہ دائر کیا ہے کہ کانگریس پارٹی نے اپنے اخبار کے اثاثوں کو پارٹی کے دفاتر اور دوسرے ٹرسٹوں میں لگا دیا۔ کانگریس نے اسے وزیر اعظم مودی کی سیاسی انتقام کی کاروائی قرار دیا ہے۔
بہار میں شکست فاش کے بعد مودی حکومت سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ اب اپنی ساری توجہ حکومت کی کارکردگی بہتر کرنے پر مرکوز کرے گی۔ لیکن پچھلے چند ہفتوں کے واقعات سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت انتقام کی سیاست میں الجھ گئی ہو۔
کیجریوال کے سکریٹری کے دفتر پر سی بی آئی کے چھاپے کےبعد جس طرح کیجریوال نے جوابی وار کیا ہے اس سے بی جے پی اور سی بی آئی دونوں کو ہی دفاعی رخ اختیار کرنا پڑا ہے۔ حکومت اور جیٹلی کےدفاع میں کئی کئی نیوز کانفرنسیں کرنی پڑی ہیں۔ چھاپوں اورانتقامی کاروائیوں سے حکومت اور تفتیشی اداروں سبھی کی شبییہ اورساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
مودی حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ انتقامی کاروائیوں سے وہ اپنی مقبولیت نہیں بڑھا سکتی۔ صرف بہترکارکردگی اور مثبت ذہنیت ہی اس کی مقبولیت کی ضامن ہے۔







