مودی کی تبدیل شدہ تصویر آن لائن مذاق کا نشانہ

،تصویر کا ذریعہNarendra Modi
بھارت کے سرکاری ادارے پریس انفارمیشن بیورو کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی چینّئی میں سیلاب کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کھینچی گئی تصویر میں ردوبدل کرنے پر آن لائن تضحیک کا نشانہ بنایا گیاہے۔
بیورو کی جانب سے پہلے بھارتی وزیر اعظم کی جہاز کی کھڑکی سے باہر جھانکتی ہوئی تصویر ری ٹویٹ کی گئی تھی جس میں کھڑکی میں سیلاب میں ڈوبی عمارتوں اور کھیتوں کو دیکھا جا سکتا تھا۔
تاہم چند گھنٹوں بعد ہی وہی تصویر دوبارہ ٹویٹ کی گئی، لیکن اس بار سیلابی صورت حال کے قدرے واضح مناظر جہاز کی کھڑکی کی جگہ پر چسپاں کر دیے گئے تھے۔
دوسری ٹویٹ کو اگرچہ بعد میں ہٹا دیا گیا تاہم اس دوران نہ صرف وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر گردش کر چکی تھی بلکہ اس کا مذاق بھی بن چکا تھا۔
پی آئی بی کی جانب سے اس معاملے پر اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
وزیراعظم مودی جمعرات کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے بھارتی ریاست تمل ناڈو کے شہر چینّئی پہنچے تھے۔

،تصویر کا ذریعہtwitter
اس علاقے میں سیلاب اور بارش سے ایک ماہ میں 260 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کچھ علاقوں میں اب بھی کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے تاہم امدادی کارروائیاں بھی بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جہاں چند افراد نے بعد میں ہٹائی جانے والی ٹویٹ کو تفریحی انداز میں لیا وہیں کچھ لوگوں نے صورت حال کی سنجیدگی کے باعث اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
کچھ لوگ ایسے بھی نظر آئے جنھوں نے خود بھی وزیراعظم مودی کی جعلی تصاویر انٹرنیٹ پر شیئر کیں۔
وزیر اعظم مودی کے ساتھ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے جب ان کی تصویر میں ردوبدل کیا گیا ہو۔

،تصویر کا ذریعہPress Information Bureau
گذشتہ سال مودی کے وزیراعظم بننے سے قبل ایک تصویر انٹرنیٹ پر بہت مقبول ہوگئی تھی جس میں امریکی صدر براک اوباما مودی کی تقریر ٹیلی وژن پر دیکھتے ہوئے نظر آرہے تھے۔
ٹوئٹر پر لوگوں کا کہنا تھاکہ وہ تصویر نریندر مودی کے ایک حمایتی نے یہ ظاہر کرنے کے لیے جاری کی تھی کہ امریکی صدر بھی نریندر مودی کی انتخابی مہم میں دلچسپی لے رہے ہیں۔







