چنّئی میں پانی کی سطح میں کمی، امدادی کارروائیاں تیز

حکام نے اعلان کیا ہے کہ ہوائی اڈا اتوار تک بند رہے گا اور ٹرین سروس بھی معطل رہے گی
،تصویر کا کیپشنحکام نے اعلان کیا ہے کہ ہوائی اڈا اتوار تک بند رہے گا اور ٹرین سروس بھی معطل رہے گی

بھارت کے جنوبی شہر چنّئی میں گذشتہ چند دن کے دوران شدید بارش سے متاثر ہونے والے علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

شہر میں گذشتہ 48 گھنٹوں سے بارش نہیں ہوئی اور اب کئی علاقوں میں پانی کی سطح کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔

حکام کے مطابق شہر کے قریب واقع دو دریاؤں ادیار اور کووم میں بھی پانی کی سطح اب کم ہو رہی ہے لیکن نقل و حمل کا نظام اب بھی بری طرح سے متاثر ہے۔

حکام کے مطابق شہر کے مرکزی ایئر پورٹ پر پانی اب بھی بھرا ہوا ہے اس لیے فضائی سروسز بدستور معطل رہیں گی۔

حکام نے اعلان کیا ہے کہ یہ ہوائی اڈہ اتوار تک بند رہےگا اور ٹرین سروسز بھی معطل رہیں گی۔

بھارت کے قدرتی آفات کے ادارے نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’اس وقت سب سے بڑا چیلنج چنئی ہوائی اڈے اور اہم شاہراہوں سے پانی نکالناہے۔‘

علاقے میں پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کے لیے ایئر انڈیا نے جمعہ کو علاقے کے ایک دیگر ہوائی اڈے سے سات پروازیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔

سیلاب میں پھنسے لوگوں کو بچانے کے لیے حکام کا بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں فوج نے اب تک سات ہزار افراد کو بچایا ہے۔

شہر کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی بھی معطل ہے اور بعض علاقوں میں بجلی کے کھمبے گرنے کے وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

شہر میں سکول، کالج اور فیکٹریاں بند ہیں جبکہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

ادھر اشیائے خوردونوش کی قلت کے سبب شہر میں بنیادی غذائی اشیا کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پانی کی ایک لیٹر کی بوتل جو عام طور پر بیس روپے میں ملتی ہے چینّئی میں اس وقت 150 روپے کی فروخت ہورہی ہے۔ اسی طرح سبزیوں کی قیمتیں بھی تقریبا دوگنی ہوگئی ہیں۔

بھارتی وزادت داخلہ کے مطابق پچھلے ایک ماہ کے دوران تمل ناڈو میں بے موسم برسات سے 269 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔