کشمیر پر مذاکرات کےلیے حالات موزوں

کشمیر میں مظاہروں پر پابندی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکشمیر میں مظاہروں پر پابندی ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے ڈیڑھ برس ہو چکا ہے۔ بی جے پی کی حکومت پہلی بار اپنے بل پر مرکز میں اقتدار میں آئی ہے اور اس حکومت کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ یہ بڑے، سخت اور مشکل فیصلے کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

خود وزیر اعظم مودی اور ان کی جماعت کے کئی اعلیٰ رہنما بھی اس تصور کو فروغ دیتے رہے ہیں۔

جس طرح انھوں نے پڑوسی ملکوں کے رہنماؤں کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا تھا اس سے ایسا لگا تھا کہ خارجی تعلقات میں نئی حکومت پڑوسی ملکوں کو اولین ترجیح دینے والی ہے۔

حکومت نے پاکستان سے بات چیت کے آغاز کا اعلان بھی کر دیا لیکن جب مذاکرات شروع ہونے ہی والے تھے اس وقت بھارت نے کشمیری علیحدگی پسندوں کی پاکستان سے بات چیت پر اعتراض کیا اور یہ بات چیت ایسی ٹوٹی کہ اسے دوبارہ شروع ہونے میں ڈیڑھ برس لگ گئے۔

اوفا میں نواز مودی ملاقات نے تعلقات میں آئے تعطل کو ختم کرنے میں مدد دی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناوفا میں نواز مودی ملاقات نے تعلقات میں آئے تعطل کو ختم کرنے میں مدد دی

ڈیڑھ برس بعد بھارت اور پاکستان نے ایک بار پھر معطل مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بات چیت کی تاریخیں اور طریقۂ کار وضع کیا جا رہا ہے۔ جن موضوعات پر بات چیت ہونی ہے ان میں کشمیر کا موضوع بھی شامل ہے۔

مودی حکومت نے اپنے اقتدار کے ڈیڑھ برس کی مدت میں پاکستان کے سلسلے میں ایک بہت واضح پالیسی اختیار کی ہے۔ اور اس پالیسی کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ بھارت پاکستان سے ہر موضوع پر بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن وہ کسی بھی شکل میں کشمیری علیحدگی پسندوں کو بات چیت کا حصہ نہیں بننے دے گا۔ مودی حکومت نے پچھلے ڈیڑھ برس میں کشمیری علیحدگی پسندوں کو موثر طریقے سے بات چیت سے ا لگ کر دیا ہے۔

نریندر مودی کی کشمیر میں خواطر خواہ دلچسپی نظر آتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننریندر مودی کی کشمیر میں خواطر خواہ دلچسپی نظر آتی ہے

دونوں ملکوں کے خارجہ سکریٹری جنوری میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دہشت گردی کے سوال پردونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر خاموشی سے کسی تیسرے ملک میں بات چیت شروع کرچکےہوں۔

مذاکرات کے لیے دونوں ملکوں پر کافی دباؤ پڑ رہا ہے۔ دونوں ہی ملکوں میں کشمیر کے مسلئے کو حل کرنے میں بھی کافی دلچسپی ہے۔ جنرل مشرف کےدور میں کشمیر پر معاہدہ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔ بات چیت شروع ہونے کے بعد ہی نئے مذاکرات کی جہت کا پتہ چل سکے گا۔

مودی حکومت کشمیر کے سوال پر کوئی معاہدہ کرنے کے لیے منموہن سنگھ کی سابقہ حکومت سے بہتر حالت میں ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں کسی معاہدے کی مخالفت نہیں کر پائیں گی۔ بی جے پی بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں پہلی بار اقتدار میں ہے۔ ریاست پوری طرح اس کی گرفت میں ہے۔ ریاست میں جلسے جلوسوں اور مظاہروں پر پابندی عائد ہے۔

حکومت علیحدگی پسندوں سے پہلے ہی کنا رے کر چکی ہے۔ کشمیر تحریک کے بیشتر رہنما کافی بزرگ ہو چکے ہیں اور طویل عرصے کی جد وجہد کے بعد ان کی گرفت بھی کمزور پڑ چکی ہے۔ کشمیری نوجوانوں کی نئی نسل ضرور اضطراب اور بے چینی سے گزر رہی ہے لیکن یہ بے چینی کیا سمت اختیار کرتی ہے اس کا پورا انحصاراس پہلو پر ہو گا کہ آنے والے دنوں میں بھارت اور پاکستان کے رشتے کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔

مذاکرات کے لیے دونوں ملکوں پر کافی دباؤ پڑ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمذاکرات کے لیے دونوں ملکوں پر کافی دباؤ پڑ رہا ہے

کشمیرکی صورتحال میں اس وقت ایک ٹھہراؤ سا ہے۔ دونوں ملکوں کی حکومتوں کے لیے آگے بڑھنے کے لیے یہ ایک موزوں وقت ہے۔ مذاکرات میں دہشت گردی کو باقی تمام موضوعات سے علیحدہ کردیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے سوال پر دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر علیحدہ بات کریں گے۔ دونوں طرف سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے جو بھی بات ہو وہ نتیجہ کن اور فیصلہ کن ہو۔

پاکستان سے بات چیت کی پوری تیاری بھارت کے وزیر اعظم کے دفتر سے کی جا رہی ہے۔ مذاکرات کےلیے قومی سلامتی کےمشیر سمیت خارجی امور کے ماہرین کا ایک کورگروپ ہے جو ان مذاکرات کی رہنمائی کرے گا۔ ڈیڑھ برس کے تعطل کے بعد مذاکرات اور پیش رفت کے لیے فضا پوری طرح ساز گار ہے۔