’اب پھر محبت کی باتیں کرنے کا موسم‘

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY

    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی تاریخ کو اگر مد نظر رکھا جائے تو جامع مذاکرات کی دوبارہ بحالی کا اعلان دونوں ملکوں کے عوام کے لیے ایک موہوم سی امید سے زیادہ کچھ نہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے جب اسلام آباد پہنچی تو ان کے بقول وہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو سدھارنے اور آگے بڑھانے کا پیغام لے کر آئی ہیں۔

<link type="page"><caption> پاکستان بھارت تعلقات: نواز مودی دہلی سے اوفا تک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150710_pak_india_relations_zz" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پاک بھارت تعلقات: اوفا کے بعد اب دہلی کا سفر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/08/150820_pak_india_relation_timeline_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

وزیراعظم نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب سے مئی 2014 کو دہلی میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد تعلقات کو آگے بڑھانے کی بات تو ہوئی لیکن اسی بات کو دوبارہ دہرانے میں دونوں ملکوں کو 14 ماہ کا عرصہ لگا گیا۔ اس سال جولائی میں روس کے شہر اوفا میں نواز اور مودی کی ایک اور ملاقات ہوئی لیکن اس کے بعد ہوا وہ ہی جو اس سے پہلے ہوتا چلا آیا ہے۔

اگست میں دونوں ممالک کے سلامتی کے مشیروں نے دہلی میں بات چیت کرنا تھی لیکن کشمیری قیادت کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے اور بات چیت کو ہی منسوخ کر دیا گیا اور اس پر دونوں ہمسایوں نے نہ صرف مایوسی کا اظہار کیا بلکہ پہلے اوفا میں ہونے والے اتفاق رائے کے نکات بھی متنازع بن گئے۔

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر پہلے سے جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا جس میں دونوں جانب سے جانی نقصان بھی ہوا تاہم سرحدی کشیدگی میں اس وقت قابل ذکر حد تک کمی آئی جب ستمبر میں پاکستان کی سرحدی فور<link type="page"><caption> س پنجاب رینجرز کے وفد نے دہلی کا دورہ کیا جہاں بھارتی وزیر داخلہ نے اس وفد سے ملاقات میں یقین دلایا کہ بھارت سرحد پر گولہ باری میں پہل نہیں کرے جبکہ دونوں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/09/150911_india_pakistan_border_ak" platform="highweb"/></link> کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنے اور اس کی خلاف ورزیوں کی مشترکہ تحقیقات کرنے پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک کی سرحدوں<link type="page"><caption> پر بندوقیں خاموشی ہو گئی لیکن دیگر باہمی معاملات پر خاموشی برقرار رہی جس </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/10/151004_washington_diary_zz" platform="highweb"/></link>میں اکتوبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے سے گریز کیا اور دور سے ہاتھ ہلا کر ’ہیلو ہائی‘ کرنے پر اکتفا کیا۔

اس دوران دونوں ممالک کے درمیان قابل ذکر سفارتی سرگرمی نظر نہیں آئی تاہم پاک بھارت <link type="page"><caption> کرکٹ سیریز خبروں میں نمایاں رہی جس میں پاکستان کے وزیر داخلہ تک نے کہہ دیا کہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/11/151116_pakistan_cricket_india_nisar_ak" platform="highweb"/></link> پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بھارت کا دورہ نہیں کرنا چاہیے تاہم اس میں پیش رفت ہوئی اور کسی حد تک دونوں ممالک نے سری لنکا میں یہ سیریز کرنے پراتفاق بھی کر لیا ہے۔

دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جولائی میں اوفا میں ملاقات ہوئی

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشندونوں ممالک کے رہنماؤں کی جولائی میں اوفا میں ملاقات ہوئی

کرکٹ کے علاوہ بھارتی شہری گیتا بھی خبروں میں رہی جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے بھی ہوئے اور پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر نے کراچی میں ایدھی ہوم جا کر گیتا سے ملاقات بھی<link type="page"><caption> کی اور اس کے بعد 26 اکتوبر کو گیتا 13 برس بعد کراچی سے اپنے ملک بھ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151025_geeta_home_return_hk" platform="highweb"/></link>ارت پہنچ گئی۔

گیتا کے بھارت جانے کے بعد پاکستان کا ذکر بھارت میں عدم برداشت کے رویوں میں ہی آیا جس میں ہالی وڈ کے سٹارز کو پاکستان جانے کا مشورہ دیا گیا۔

لیکن اس دوران پاکستانی وزیراعظم نے بظاہر خارجہ امور میں اہم تبدیلی کی جس میں مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے مشیر برائے سلامتی امور کا چارج لے کر حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کو 23 اکتوبر کوسلامتی کا مشیر مقرر کر دیا۔

اس کا ذکر یہاں اس لیے ضروری ہے کیونکہ خاص کر ہمسایہ ممالک پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فوج کے اثرورسوخ کو محسوس کرتے ہیں اور سول قیادت سے براہ راست معاملات طے کرنے میں کسی حد تک ہچکچاہٹ دکھاتے ہیں۔

پیرس میں ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی آئی

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

،تصویر کا کیپشنپیرس میں ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی آئی

ان سارے معاملات میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان پیرس میں ملاقات سے پہلے دولتِ مشترکہ کے مالٹا میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ممکنہ ملاقات کا موقع تھا لیکن وزیراعظم مودی نے اس اجلاس میں شرکت نہیں تاہم <link type="page"><caption> نومبر کی 30 تاریخ کو پیرس میں عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں پر </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/11/151130_nawaz_modi_meeting_zz.shtml" platform="highweb"/></link> کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کی نریندر مودی سے غیر رسمی ملاقات ہوئی۔

یہ ہی ملاقات تھی جس میں سرد تعلقات کو ایک بار پھر نئی زندگی دی جس کے ٹھیک پانچ دن بعد چھ دسمبر کو اچانک خبر آئی کہ پاکستان اور بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے<link type="page"><caption> جس میں دہشت گردی، لائن آف کنٹرول پر کشیدگی سمیت تمام اُمور پر بات چیت کی گئی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151206_india_pak_nsa_meeting_sr" platform="highweb"/></link>۔

میڈیا میں ملاقات کی خبر آنے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کی جانب سے نو نومبر کو دی گئی دعوت کو قبول کیا اور منگل کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے تعلقات کو سدھارنے اور آگے بڑھانے کا پیغام لے کر آئی پہنچی۔

دونوں ممالک نے ابھی تک کرکٹ سیریز پر فیصلہ نہیں کیا

،تصویر کا ذریعہBoth Photos by AFP

،تصویر کا کیپشندونوں ممالک نے ابھی تک کرکٹ سیریز پر فیصلہ نہیں کیا

کانفرنس کے اختتام پر بھارتی وزیر خارجہ سمشا سوراج نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ جامع مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے پر دونوں ممالک متفق ہیں تاہم اس <link type="page"><caption> سے پہلے انھوں نے کانفرنس سے خطاب میں بھارت کو پاکستان کے راس</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151209_sushma_heart_of_asia_zs" platform="highweb"/></link>تے افغانستان تک تجارتی رسائی دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے مفاد میں فی الوقت کوئی بھی چیز اس سے زیادہ اہم نہیں کہ اسے سڑک کے ذریعے مکمل طور پر بھارتی بازاروں تک رسائی ہو۔

دونوں ممالک نے اب تعلقات میں بہتری کے لیے ممبئی حملوں کے بعد پہلی بار جامع مذاکرات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس کے ساتھ بھارت نے اپنی افغانستان اور وہاں سے وسطی ایشیا تک پاکستان کے راستے رسائی کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور شاید پاکستان کے لیے اس کو پورا آسان نہیں ہو گا جب دونوں ممالک افغانستان میں ایک دوسرے پر پراکسی وار کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں۔