’سب سے اہم افغانستان کی بھارتی بازاروں تک سڑک سے رسائی‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے بھارت کو پاکستان کے راستے افغانستان تک تجارتی رسائی دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے مفاد میں فی الوقت کوئی بھی چیز اس سے زیادہ اہم نہیں کہ اسے سڑک کے ذریعے مکمل طور پر بھارتی بازاروں تک رسائی ہو۔
بدھ کو اسلام آباد میں ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو باہمی تجارت کے معاملے میں بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
سشما سوراج کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اس رفتار سے تجارتی تعاون کے لیے تیار ہے جس میں پاکستان کے لیے سہولت ہو۔

،تصویر کا ذریعہAP
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وقت ہے جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرنے کے معاملے میں بالغ نظری اور خود اعتمادی کا مظاہرہ کریں اور علاقائی تجارت اور تعاون کو مضبوطی فراہم کریں۔‘
<link type="page"><caption> سشما سوراج کی آسلام آباد آمد پر میڈیا سے بات: دیکھیے</caption><url href="https://twitter.com/MEAIndia/status/674216968258519040" platform="highweb"/></link>
سشما سوراج نے کہا کہ اس وقت ساری دنیا کی نظریں پاکستان اور بھارت پر ہیں اور دنیا تبدیلی کی منتظر ہے۔’ہمیں انھیں ناامید نہیں کرنا چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی تقریر میں بھارتی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت پاکستان افغانستان تجارتی معاہدے میں شامل ہونے کا مصمم ارادہ رکھتا ہے۔
’افغانستان کے مفاد میں فی الوقت کوئی بھی چیز اس سے زیادہ اہم نہیں کہ اسے سڑک کے ذریعے مکمل طور پر بھارتی بازاروں تک رسائی ہو تاکہ وہ بھارت میں بغیر محصول کی برآمدات کا فائدہ حاصل کر سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’علاقائی معاشی تعاون کے لیے رابطے بھی انڈیا کی اپنی کوششوں میں شامل ہیں کیونکہ اگر شریانیں بند کر دی جائیں تو ہارٹ آف ایشیا(افغانستان) کام نہیں کر سکتا۔
سشما سوراج کا کہنا تھا کہ بھارت، افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی سہ فریقی ٹرانزٹ کے قیام کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ اس کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آمد کے موقع پر سشما سوراج نے کہا تھا کہ وہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو سدھارنے اور آگے بڑھانے کا پیغام لے کر آئی ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ’ہارٹ آف ایشیا‘ کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اسلام آباد پہنچ گئی ہیں۔
شمسا سوراج کے دورۂ پاکستان کو دونوں ملکوں میں کرکٹ کے شائقین بھی بڑی دلچسپی کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور توقع ہے کہ اُن کے اس دورے کے دوران کرکٹ روابط بحال کرنے کے لیے بھی مثبت پیش رفت ہو گی۔
سشما سوراج کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت افغانستان کے ساتھ اس کی دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے مل کر کام کرنے کو تیار ہے اور ’یہ ہم تمام لوگوں کی یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو کہیں بھی کسی بھی نام یا شکل میں کوئی تحفظ فراہم نہ کیا جائے۔‘







