بینکاک میں پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات

،تصویر کا ذریعہIndian Foreign Ministry
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں دہشت گردی، لائن آف کنٹرول پر کشیدگی سمیت تمام اُمور پر بات چیت کی گئی ہے۔
اتوار کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ نے بھارت ہم منصب اجیت ڈوال سے ملاقات کی۔
<link type="page"><caption> ’کسی شرط کے بغیر مذاکرات کے لیے بھارت جانے کو تیار ہوں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2015/08/150822_sartaj_aziz_press_on_nsa_meeting_sr" platform="highweb"/></link>
دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ کی موجودگی میں ہونے والی اس ملاقات میں جموں و کشمیر، خطے میں امن، دہشت گردی اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ بینکاک میں ہونے والی یہ ملاقات پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی پیرس میں ہونے والی مختصر ملاقات کے تناظر میں ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہMEA India
قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کے بعد ایک مختصر بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق دونوں ممالک کے مشیروں کی ملاقات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی ہے اور دونوں ملک نے مستقبل میں بھی تعمیری بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ افغانستان میں قیامِ امن سے متعلق 8 دسمبر سے شروع ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاکستان نے بھارت کو بھی مدعو کیا ہے۔
اسی کانفرنس کے حوالے سنیچر کو وزیراعظم نواز شریف نے قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ سے ملاقات بھی کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہROBIN SINGH
پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نے روس کے شہر اوفا میں ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا اور کہا تھا کہ جلد پاکستان اور بھارت کے مشیر قومی سلامتی کے درمیان ملاقات ہو گی لیکن کشمیری قیادت سے ملاقات کے تنازع پر یہ بات چیت منعقد نہیں ہو سکی تھی۔
اس وقت کے مشیر قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اوفا میں طے ہونے والے معاہدے کے تحت قومی سلامتی کے مشیروں کے مذاکرات میں کشیمر کا ایجنڈا شامل نہیں ہو سکتا جو غلط ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ اوفا معاہدے کے تحت امن کے قیام کے لیے پاکستان اور بھارت تمام حل طلب مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرت کے ایجنڈے پر اختلاف کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت منسوخ ہو گئی تھی۔







