بھارت کا خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty
بھارت نے دہلی میں کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں سے پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات کے بعد خارجہ سیکریٹری سطح کے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کےترجمان اکبر الدین نے بتایا کہ پاکستان کی علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات سے کئی سوالات اٹھتے ہیں اور اس سے بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کا اشارہ ملتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ خارجہ سجاتا سنگھ نے بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو کھلے اور واضح الفاظ میں بتایا کہ پاکستان کی بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
سجاتا سنگھ نے مزید کہا کہ پاکستان کے اس عمل سے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی طرف سے شروع کیے گئے باہمی مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی وزراتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی وزارتِ خارجہ نے دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو بتایا ہے کہ بھارتی حکومت نے اسلام آباد میں 25 اگست سے شروع ہونے والے سیکریٹری سطح کے مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق بھارتی حکومت کا یہ فیصلہ دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ 25 اگست سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شروع ہونے والے مذاکرات اب منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ کشمیر کے دورے کے دوران پاکستان پر در پردہ جنگ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بھارت بندوقوں کی گھن گرج نہیں، ترقی چاہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے لداخ میں عوامی خطاب کے دوران پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بھارت کے کنٹرول والے علاقوں میں مقامی شدت پسندوں کی پشت پناہی کر کے ’پراکسی وار‘ یعنی درپردہ جنگ لڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دراصل بھارت کے ساتھ باقاعدہ روایتی جنگ کی سکت نہیں رکھتا اسی لیے مسلح شدت پسندوں اور دراندازوں کی حمایت کر رہا ہے۔
اس سے پہلے مئی میں نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی تھی۔







