پاکستان کشمیر میں’پراکسی وار‘ لڑ رہا ہے: مودی

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے دورے کے دوران پاکستان پر در پردہ جنگ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بھارت بندوقوں کی گھن گرج نہیں، ترقی چاہتا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو لداخ میں عوامی خطاب کے دوران پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ بھارت کے کنٹرول والے علاقوں میں مقامی شدت پسندوں کی پشت پناہی کر کے ’پراکسی وار‘ یعنی درپردہ جنگ لڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دراصل (بھارت کے ساتھ) باقاعدہ روایتی جنگ کی سکت نہیں رکھتا اسی لیے مسلح شدت پسندوں اور دراندازوں کی حمایت کر رہا ہے۔
نریندر مودی منگل کی صبح ایک روزہ دورے پر لداخ پہنچے جہاں لیہہ اور کارگل میں انھوں نے 18 ارب سے زائد کی لاگت والے پن بجلی پروجیکٹوں اور ترسیلی لائن کا افتتاح کیا۔
سنہ 1999 میں کارگل کی چوٹیوں پر مسلح شدت پسندوں اور پاکستانی افواج کے ساتھ بھارتی فوج کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھارتی وزیراعظم نے کارگل کی سرزمین پر عوام اور بھارتی فوج سے خطاب کیا ہے۔
انھوں نے دہشت گردی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تعمیر و ترقی کے اتنے وسائل دستیاب کروائیں گے کہ تشدد، نفرت اور ٹکراؤ کی فضا ترقی اور خوشحالی کی فضا میں بدل جائے گی۔
نریندر مودی نے کارگل کے لوگوں کی حب الوطنی کی تعریف کی اور کہا کہ یہاں کے لوگ ملک کی قومی سلامتی کی ضمانت ہیں۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا یہ چھ ہفتوں میں کشمیر کا دوسرا دورہ تھا۔ چار جولائی کو انھوں نے جموں خطے میں اودھم پور کٹرہ ریلوے لائن کا افتتاح کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنے محتاط خطاب میں مسٹر مودی نے بجلی، سیاحت، روزگار اور دوسرے تعمیراتی معاملوں پر بات کی۔
واضح رہے بھارتی کنٹرول والے لداخ کی ایک عبوری سرحد لائن آف ایکچول کنٹرول چین کےساتھ ملتی ہے، تاہم چین اس سرحد کو تسلیم نہیں کرتا۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران کئی مرتبہ چینی فوج یہ سرحد عبور کرکے لداخ خطے میں داخل ہوئی، جس پر بی جے پی نے اُس وقت کی کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPress Information Bureau
نریندر مودی نے جموں کشمیر میں زعفران کی کاشت کا انقلاب لانے کی بات کی اور یہاں کی حکومت کے پاس خوراک کی سپلائی سے متعلق 60 کروڑ روپے مالیت کا واجب الادا ٹیکس معاف کرنے کا اعلان کیا۔
انھوں نے جموں کشمیر کو ریلوے اور بجلی کی ترسیل کے ذریعے پورے ملک کے ساتھ مربوط کرنے کے منصوبوں کا ذکر کیا اور کہا کہ کشمیر میں موجودی توانائی کے وسائل کو بھارت کی طاقت میں بدلنے کے لیے ان کی حکومت سرگرم رہے گی۔
گو مودی لداخ سے ہی واپس دہلی لوٹیں گے، لیکن ان کی آمد کے سلسلے میں کشمیر میں بھی سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
اسی دوران گذشتہ شب سرینگر جموں شاہراہ پر پام پورہ کے نزدیک نامعلوم اسلحہ برداروں کو بارڈر سیکورٹی فورس کی ایک بس پر فائرنگ کی جس میں ایک افسر سمیت سات اہلکار زخمی ہوگئے۔
اس سے قبل اتوار کی شب جموں کے آر ایس پورہ سیکٹر میں فوج نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی افواج نے بھارتی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ تاہم پاکستان نے بھی دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج نےسرحد پر فائرنگ کی جس میں دو افراد مارے گئے۔







