پاکستان کشمیر میں’پراکسی وار‘ لڑ رہا ہے: مودی

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو لیہہ میں 45 میگاواٹ صلاحیت والے نیمو بازگو پن بجلی منصوبے کو بھارت کے لیے وقف کیا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنبھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو لیہہ میں 45 میگاواٹ صلاحیت والے نیمو بازگو پن بجلی منصوبے کو بھارت کے لیے وقف کیا
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے دورے کے دوران پاکستان پر در پردہ جنگ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بھارت بندوقوں کی گھن گرج نہیں، ترقی چاہتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو لداخ میں عوامی خطاب کے دوران پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ بھارت کے کنٹرول والے علاقوں میں مقامی شدت پسندوں کی پشت پناہی کر کے ’پراکسی وار‘ یعنی درپردہ جنگ لڑ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دراصل (بھارت کے ساتھ) باقاعدہ روایتی جنگ کی سکت نہیں رکھتا اسی لیے مسلح شدت پسندوں اور دراندازوں کی حمایت کر رہا ہے۔

نریندر مودی منگل کی صبح ایک روزہ دورے پر لداخ پہنچے جہاں لیہہ اور کارگل میں انھوں نے 18 ارب سے زائد کی لاگت والے پن بجلی پروجیکٹوں اور ترسیلی لائن کا افتتاح کیا۔

سنہ 1999 میں کارگل کی چوٹیوں پر مسلح شدت پسندوں اور پاکستانی افواج کے ساتھ بھارتی فوج کی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھارتی وزیراعظم نے کارگل کی سرزمین پر عوام اور بھارتی فوج سے خطاب کیا ہے۔

انھوں نے دہشت گردی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تعمیر و ترقی کے اتنے وسائل دستیاب کروائیں گے کہ تشدد، نفرت اور ٹکراؤ کی فضا ترقی اور خوشحالی کی فضا میں بدل جائے گی۔

نریندر مودی نے کارگل کے لوگوں کی حب الوطنی کی تعریف کی اور کہا کہ یہاں کے لوگ ملک کی قومی سلامتی کی ضمانت ہیں۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا یہ چھ ہفتوں میں کشمیر کا دوسرا دورہ تھا۔ چار جولائی کو انھوں نے جموں خطے میں اودھم پور کٹرہ ریلوے لائن کا افتتاح کیا تھا۔

اپنے محتاط خطاب میں مسٹر مودی نے بجلی، سیاحت، روزگار اور دوسرے تعمیراتی معاملوں پر بات کی۔

واضح رہے بھارتی کنٹرول والے لداخ کی ایک عبوری سرحد لائن آف ایکچول کنٹرول چین کےساتھ ملتی ہے، تاہم چین اس سرحد کو تسلیم نہیں کرتا۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران کئی مرتبہ چینی فوج یہ سرحد عبور کرکے لداخ خطے میں داخل ہوئی، جس پر بی جے پی نے اُس وقت کی کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

چار جولائی کو انھوں نے جموں خطے میں اودھم پور کٹرہ ریلوے لائن کا افتتاح کیا تھا

،تصویر کا ذریعہPress Information Bureau

،تصویر کا کیپشنچار جولائی کو انھوں نے جموں خطے میں اودھم پور کٹرہ ریلوے لائن کا افتتاح کیا تھا

نریندر مودی نے جموں کشمیر میں زعفران کی کاشت کا انقلاب لانے کی بات کی اور یہاں کی حکومت کے پاس خوراک کی سپلائی سے متعلق 60 کروڑ روپے مالیت کا واجب الادا ٹیکس معاف کرنے کا اعلان کیا۔

انھوں نے جموں کشمیر کو ریلوے اور بجلی کی ترسیل کے ذریعے پورے ملک کے ساتھ مربوط کرنے کے منصوبوں کا ذکر کیا اور کہا کہ کشمیر میں موجودی توانائی کے وسائل کو بھارت کی طاقت میں بدلنے کے لیے ان کی حکومت سرگرم رہے گی۔

گو مودی لداخ سے ہی واپس دہلی لوٹیں گے، لیکن ان کی آمد کے سلسلے میں کشمیر میں بھی سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

اسی دوران گذشتہ شب سرینگر جموں شاہراہ پر پام پورہ کے نزدیک نامعلوم اسلحہ برداروں کو بارڈر سیکورٹی فورس کی ایک بس پر فائرنگ کی جس میں ایک افسر سمیت سات اہلکار زخمی ہوگئے۔

اس سے قبل اتوار کی شب جموں کے آر ایس پورہ سیکٹر میں فوج نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی افواج نے بھارتی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ تاہم پاکستان نے بھی دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج نےسرحد پر فائرنگ کی جس میں دو افراد مارے گئے۔