کشمیر: بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز پر حملہ، سات اہلکار زخمی

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکام کے مطابق سوموار اور منگل کی درمیانی شب بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز پر حملے میں کم سے کم سات اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ حملہ دارالحکومت سری نگر کے قریب پامپور کے علاقے میں ہوا ہے۔
کشمیر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کی امرناتھ یاترا (مذہبی زیارت) کے اختتام پر یہ لوگ واپس آ رہے تھے۔
پولیس کے ترجمان منوج کمار کے مطابق اس حملے میں شدت پسندوں نے گھات لگا کر بس کو نشانہ بنایا جس میں ایک اہلکار سمیت سات جوان زخمی ہوئے ہیں۔
یہ قافلہ بی ایس ایف کی 59 بٹالین پر مشتمل تھا اور یہ قافلہ پہلاگام سے واپس آرہا تھا۔
واضح رہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کشمیر میں بھارت پاکستان سرحد پر حالیہ کشیدگی کے دوران آج منگل کو کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں۔
اس حملے کے بعد ریاست میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ حملہ وزیراعظم کے دورے کے مقام سے تقریبا 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا ہے تاہم سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نریندر مودی کے حالیہ کشمیر دورے کو سٹریٹجک اعتبار سے بھی کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان نے سوموار کو اسلام آباد میں ایک بھارتی سینيئر سفارتکار کو سیالکوٹ کے نزدیک سرحد پار فائرنگ پر طلب کیا تھا جس میں پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق ایک شہری ہلاک ہو گيا تھا۔
اس سے قبل بھارت نے بھی پاکستان پر سرحد پار سے فائرنگ کا الزام لگایا تھا۔ واضح رہے کہ سنہ 2003 کے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے پر سرحد پار سے اشتعال انگیز فائرنگ کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نریندر مودی دوسری بار کشمیر دورے پر جا رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ کے اوائل میں انھوں نے کشمیر جاکر ادھم پور كٹرا ریل لائن کا افتتاح کیا تھا۔ اس بار وزیر اعظم کارگل، لیہ اور لداخ کا دورہ کریں گے۔ اپنے دورے میں وہ کارگل میں پاور ٹرانسمیشن پروجیکٹ کا سنگ بنیاد ڈالیں گے۔
330 کلومیٹر لمبی لیہ، سرینگر ٹرانسمیشن لائن کے علاوہ وہ دو پن بجلی منصوبوں کا سنگ بھی بنیاد رکھیں گے۔ اس ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے لیہ کا علاقہ بھارت کے باقی حصوں کے ٹرانسمیشن لائن سے جڑ جائے گا۔ سرینگر لیہ ٹرانسمیشن لائن کا اعلان پہلی بار سنہ 2003 میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کیا تھا۔
نریندر مودی کے سفر سے پہلے ہی آرمی چیف ہے دلبیر سنگھ بھی لیہ پہنچ گئے ہیں۔ فوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا کشمیر دورہ ہے۔







