مولوی فاروق اور عبدالغنی لون کی برسی

سری نگر میں ہڑتال اور جزوی کرفیو نافذ رہا

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں اکیس مئی کو جزوی طور پر کرفیو نافذ رہا اور شہر کی جامعہ مسجد کے باہر بھی پولیس اور نیم فوجی دستے موجود رہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں اکیس مئی کو جزوی طور پر کرفیو نافذ رہا اور شہر کی جامعہ مسجد کے باہر بھی پولیس اور نیم فوجی دستے موجود رہے۔
کشمیر میں اکیس مئی کو مولوی محمد فاروق اور عبدالغنی لون کی برسی کے موقعے پر عام ہڑتال رہی اور معمولات زندگی مکمل طور پر معطل رہے۔
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں اکیس مئی کو مولوی محمد فاروق اور عبدالغنی لون کی برسی کے موقعے پر عام ہڑتال رہی اور معمولات زندگی مکمل طور پر معطل رہے۔
مولوی محمد فاروق کو 21 مئی 1990 میں اور عبدالغنی لون کو21 معی 2002 میں ہلاک کر دیا گیا تھا اور دونوں رہنماؤں کی برسی 21 مئی کو منائی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنمولوی محمد فاروق کو 21 مئی 1990 میں اور عبدالغنی لون کو21 معی 2002 میں ہلاک کر دیا گیا تھا اور دونوں رہنماؤں کی برسی 21 مئی کو منائی جاتی ہے۔
سری نگر میں مولوی محمد فاروق اور عبد الغنی لون کی برسی پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور شہر کی بڑی بڑی سڑکوں کو خار دار تاروں اور فوج ٹرک کھڑے کر کے بلاک کر دیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنسری نگر میں مولوی محمد فاروق اور عبد الغنی لون کی برسی پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور شہر کی بڑی بڑی سڑکوں کو خار دار تاروں اور فوج ٹرک کھڑے کر کے بلاک کر دیا گیا تھا۔
شہر کی سڑکیں ہڑتال اور جزوی کرفیو کی وجہ سے ویران پڑی رہیں اور اکا دکا لوگ ہی سڑکوں پر نظر آئے۔
،تصویر کا کیپشنشہر کی سڑکیں ہڑتال اور جزوی کرفیو کی وجہ سے ویران پڑی رہیں اور اکا دکا لوگ ہی سڑکوں پر نظر آئے۔
سری نگر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستے گشت کرتے رہے۔
،تصویر کا کیپشنسری نگر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستے گشت کرتے رہے۔
کشمیر میں بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کے کئی لاکھ تعینات ہیں جہاں ایک عرصے بھارت سے علیحدگی کی جدوجہد جاری ہے۔
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کے کئی لاکھ تعینات ہیں جہاں ایک عرصے بھارت سے علیحدگی کی جدوجہد جاری ہے۔