دریا میں بہہ کر بھارتی فوجی پاکستان میں داخل

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نیم فوجی حکام کا کہنا ہے کہ بارڈر سکیورٹی فورس کا ایک فوجی دریا میں بہہ کر پاکستان کے سیالکوٹ کے علاقہ کی طرف چلا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بارڈر سکیورٹی فورس کا گشتی دستہ اکھنور سرحدی سیکٹر کے قریب دریائے چناب میں کشتی کے ذریعے گشت پر تھا کہ پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے کشتی الٹ گئی۔
بی ایس ایف کے انسپکٹر جنرل ایس ایس تومار نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم پاکستان کے فوجی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اطراف کے حکام کے درمیان فلیگ میٹنگ بھی ہو چکی ہے۔ ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ سپاہی کو صحیح سلامت لوٹایا جائے گا۔ لیکن ابھی کچھ لوازمات ہیں جو پورے کیے جا رہے ہیں۔‘
مسٹر تومار نے بتایا کہ پاکستان کے چناب رینجرز کے افسروں نے فوری رابطہ کر کے بھارتی حکام کو یقین دلایا ہے کہ ان کی تحویل میں بھارتی سپاہی کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔
دریں اثنا پاکستانی میڈیا نے فوجی ذرائع کا حوالہ دے کر بتایا کہ سیالکوٹ کے باجواٹ سیکٹر میں کولیل گاؤں کے قریب بھارت کے بی ایس ایف اہلکار کو پاکستانی چناب رینجرز کے اہلکاروں نے گرفتار کر کے کسی نامعلوم مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں اس سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔
واضح رہے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر گذشتہ برس ایک دوسرے کے کنٹرول والے علاقوں میں داخل ہوکر تشدد کرنے کے واقعات سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں تلخی پیدا ہوگئی تھی۔
بی جے پی کی قیادت والی نئی بھارتی حکومت کے وزیردفاع ارون جیٹلی نے بھی کشمیر کے دورے کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ ایل او سی کے ذریعے دراندازی کرنے والے مسلح افراد کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔
واضح رہے گذشتہ برس چھ اگست کو لائن آف کنٹرول کے پونچھ سیکٹر میں مسلح افراد نے پانچ بھارتی فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا جس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی اور ایل او سی پر بھی دونون افواج کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دس سال قبل دونوں ملکوں نے 740 کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا تھا۔ تازہ کشیدگیوں کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے نیویارک میں اپنی ملاقات کے بعد یہ طے کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو ختم کیا جائے گا۔







